پاکستان سمیت مسلم ممالک اور یورپی یونین نے مغربی کنارے میں اسرائیلی اقدامات کو غیر قانونی قرار دے دیا
ریاض – مسلم ممالک اور یورپی یونین نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی جانب سے کنٹرول سخت کرنے، نئی بستیوں کے قیام اور انتظامی اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
یورپی یونین کے ترجمان انوار الانونی نے کہا کہ "مغربی کنارے میں اسرائیلی کنٹرول کو بڑھانے کے لیے اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کے حالیہ فیصلوں کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ اقدام خطے میں غلط سمت میں ایک اور قدم ہے۔” انہوں نے زور دیا کہ عالمی برادری بین الاقوامی قوانین کے تحت فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ میں مستعد رہے گی اور اسرائیل پر فوری اصلاح کا دباؤ ڈالے گی۔
مسلم ممالک کا موقف
سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر، انڈونیشیا، پاکستان، مصر اور ترکیہ کے وزراء خارجہ نے بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کی توسیع پسندانہ پالیسیوں اور فلسطینیوں کی زمین سے بے دخلی کی کوششوں کی سخت ترین مذمت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کے یہ اقدامات سراسر غیر قانونی ہیں، جن کا مقصد مغربی کنارے کا زبردستی الحاق اور فلسطینی عوام کو جبری ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔
وزراء خارجہ نے واضح کیا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کی کوئی خودمختاری تسلیم نہیں کی جائے گی، اور یہ اقدامات دو ریاستی حل کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ انہوں نے سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2334 اور عالمی عدالت انصاف کے 2024 کے مشاورتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کی پالیسیاں غیر قانونی ہیں اور فوری طور پر ان کا خاتمہ کیا جانا چاہیے۔
وزراء خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کرے، قابض اسرائیل کو اشتعال انگیزی اور مقبوضہ علاقوں میں قبضے کے خطرناک اقدامات روکنے پر مجبور کرے، اور اسرائیلی وزراء بشمول بزلئیل سموٹریچ اور ایتمار بن گویر کے اشتعال انگیز بیانات کا سدِباب کرے۔
عالمی برادری اور خطے میں امن
اعلامیے میں زور دیا گیا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی فراہمی، حقِ خودارادیت کی تسلیم اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں دیرپا اور جامع امن کا واحد راستہ ہے۔ مسلم ممالک اور یورپی یونین نے اسرائیلی اقدامات کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق عمل درآمد کے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔