فاطمہ ثریا بجیا کو ہم سے بچھڑے 10 برس بیت گئے
اردو ادب اور ڈرامہ نگاری کا ایک سنہرا عہد ناول نگاری اور ڈرامہ نگاری کی دنیا میں منفرد مقام رکھنے والی نامور ادیبہ فاطمہ ثریا بجیا کو دنیا سے رخصت ہوئے دس برس گزر گئے، مگر ان کی تخلیقات آج بھی اردو ادب اور پاکستانی ڈرامے کا روشن حوالہ ہیں۔
فاطمہ ثریا بجیا نے ٹیلی وژن کے ساتھ ساتھ ریڈیو اور اسٹیج کے لیے بھی یادگار کام کیا، جبکہ سماجی اور فلاحی شعبوں میں ان کی خدمات کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا تعلق ایک ایسے علمی و ادبی خاندان سے تھا جس نے اردو زبان و ادب کو کئی معتبر نام دیے۔
یکم ستمبر 1930ء کو حیدرآباد دکن میں پیدا ہونے والی فاطمہ ثریا بجیا پاکستان کی مقبول ترین ڈرامہ رائٹرز میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے تحریر کردہ گھریلو اور معاشرتی ڈرامے ہر دور میں ناظرین کی بھرپور توجہ حاصل کرتے رہے اور خاندانی اقدار، رشتوں کے احترام اور سماجی مسائل کی عمدہ عکاسی ان کی تحریروں کا خاصہ رہی۔
کہا جاتا ہے کہ ان کی ٹیلی وژن کی دنیا میں آمد محض ایک اتفاق تھی۔ 1966ء میں کراچی جانے والی ان کی پرواز منسوخ ہوئی تو وہ اسلام آباد پی ٹی وی سینٹر گئیں، جہاں اس وقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر آغا ناصر نے ان سے اداکاری کے ذریعے پہلا کام کروایا۔ یہی لمحہ ان کے طویل اور کامیاب ڈرامائی سفر کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا، جس کے بعد انہوں نے ڈرامہ نگاری کے ذریعے پی ٹی وی سے مضبوط تعلق قائم کیا۔
ان کے شہرۂ آفاق ڈراموں میں شمع، افشاں، عروسہ اور انا شامل ہیں، جن میں بڑے خاندانوں اور معاشرتی پیچیدگیوں کو نہایت سادگی اور گہرائی سے پیش کیا گیا۔ اس کے علاوہ انارکلی، زینت، آگہی، بابر اور سسی پنوں بھی ان کے مقبول ڈراموں میں شمار ہوتے ہیں۔
حکومت پاکستان نے ان کی ادبی و ثقافتی خدمات کے اعتراف میں 1997ء میں تمغۂ حسنِ کارکردگی عطا کیا۔ اس کے علاوہ انہیں متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے بھی نوازا گیا، جن میں جاپان کا اعلیٰ سول ایوارڈ نمایاں ہے۔ 2012ء میں انہیں ہلالِ امتیاز سے سرفراز کیا گیا۔
فاطمہ ثریا بجیا نے سندھ حکومت کی مشیر برائے تعلیم کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ ان کے خاندان میں بھی کئی نمایاں ادبی شخصیات شامل ہیں، جن میں بھائی احمد مقصود اور انور مقصود جبکہ بہنوں میں سارہ نقوی، زہرہ نگاہ اور زبیدہ طارق شامل ہیں۔
اردو ادب کا یہ روشن چراغ گلے کے کینسر کے باعث طویل علالت کے بعد 10 فروری 2016ء کو 86 برس کی عمر میں بجھ گیا، مگر وہ اپنی تحریروں کی روشنی سے رہتی دنیا تک یہ پیغام دے گئیں کہ احترامِ انسانیت اور اخلاص کی خوشبو کبھی مدھم نہیں پڑتی۔