امریکہ نے غزہ کے مغربی کنارے کواسرائیل میں ضم کرنے کی مخالفت کردی
واشنگٹن – وائٹ ہاؤس نے ایک بار پھر اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق کی مخالفت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس علاقے میں استحکام برقرار رکھنا خطے کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے صحافیوں کو بھیجے گئے بیان میں کہا،
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے کے الحاق کی حمایت نہیں کرتے۔”
بیان میں کہا گیا کہ ایک مستحکم مغربی کنارہ نہ صرف اسرائیل کی سلامتی کے لیے اہم ہے بلکہ خطے میں امن کے قیام کے امریکی ہدف سے بھی ہم آہنگ ہے۔
تاہم وائٹ ہاؤس کے بیان میں اسرائیل کی سیکیورٹی کابینہ کی جانب سے منظور کیے گئے حالیہ اقدامات کی براہِ راست مذمت نہیں کی گئی، جن کے تحت مغربی کنارے کے بعض علاقوں میں یروشلم کے انتظامی اختیارات میں توسیع کی منظوری دی گئی ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ اقدامات اوسلو معاہدے کی روح کے منافی سمجھے جاتے ہیں، کیونکہ یہ علاقے فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
بیان میں اس بات کی بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ آیا امریکا نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کی حکومت کے سامنے ان فیصلوں پر باضابطہ تشویش کا اظہار کیا ہے یا نہیں۔ اس سے قبل بھی واشنگٹن کی جانب سے اسی نوعیت کے محتاط اور مبہم بیانات سامنے آتے رہے ہیں، خاص طور پر اسرائیلی بستیوں کی توسیع کے معاملے پر۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے اقتدار میں واپسی کے بعد ایک موقع پر مغربی کنارے کے الحاق کی حمایت پر غور کا عندیہ دیا تھا، تاہم عرب اتحادیوں کی تشویش اور دو ریاستی حل کو لاحق خطرات کے پیش نظر ستمبر میں واضح کیا تھا کہ امریکا اسرائیل کو مغربی کنارے کے الحاق کی اجازت نہیں دے گا۔
اس کے باوجود اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے بعد ازاں علامتی قراردادیں منظور کیں، جس پر امریکی انتظامیہ، خصوصاً نائب صدر جے ڈی وینس نے ناراضی کا اظہار کیا تھا۔
حالیہ مہینوں میں اسرائیل کی جانب سے متعدد ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جنہیں ناقدین عملاً الحاق کی سمت قدم قرار دیتے ہیں، اگرچہ یروشلم نے اب تک باضابطہ اعلان سے گریز کیا ہے۔
جنوری کے اواخر میں نیتن یاہو کے امریکا کے دورے کے دوران امریکی حکام نے مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد، بستیوں کی توسیع اور فلسطینی اتھارٹی کے ٹیکس ریونیو کی روک تھام پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جس سے رام اللہ میں قائم حکومت کو شدید مالی بحران کا سامنا ہے۔
اگرچہ آئندہ ملاقات میں امریکا اور اسرائیل کے درمیان ایران مرکزی موضوع ہوگا، تاہم امریکی حکام کے مطابق غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال بھی زیر بحث آ سکتی ہے، کیونکہ واشنگٹن کو خدشہ ہے کہ مغربی کنارے میں بڑھتی کشیدگی غزہ میں استحکام کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔