برطانیہ شدید سیاسی بحران کی زد میں، وزیراعظم کیئر اسٹارمر پر استعفے کا دباؤ بڑھ گیا

ریجیم چینج پر یقین نہیں رکھتے، ایران پر حملوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوئے: برطانوی وزیراعظم

لندن – برطانیہ ایک سنگین سیاسی بحران کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں وزیراعظم کیئر اسٹارمر پر استعفے کے لیے دباؤ میں نمایاں اضافہ ہو گیا ہے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق امریکا میں تعینات برطانیہ کے سابق سفیر کے بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین سے مبینہ تعلقات کے انکشافات نے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی حکومت کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ان انکشافات کے بعد نہ صرف اپوزیشن بلکہ حکمران لیبر پارٹی کے اندر سے بھی شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

رپورٹس کے مطابق لیبر پارٹی کے دو ارکانِ پارلیمنٹ نے وزیراعظم سے فوری استعفے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ سیاسی دباؤ کے بڑھنے کے ساتھ ہی وزیراعظم کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشنز ٹِم ایلن نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل وزیراعظم کے چیف آف اسٹاف مورگن مک سوینی بھی عہدے سے دستبردار ہو چکے ہیں، جسے حکومتی صفوں میں بڑھتے بحران کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ قریبی ساتھیوں کے استعفوں اور پارٹی کے اندرونی اختلافات نے وزیراعظم کی پوزیشن کو مزید کمزور کر دیا ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں برطانیہ کی سیاست میں مزید ہلچل متوقع ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے