پاکستان کا سوڈان میں سیاسی تعطل اور تشدد پر تشویش، فریقین اختلافات کو جامع مذاکرات کے ذریعے حل کریں
اقوام متحدہ، نیویارک – پاکستان نے سوڈان میں 2018 کے امن معاہدے کے دستخط کنندگان کے درمیان جاری سیاسی تعطل اور مسلح جھڑپوں میں خطرناک اضافے پر شدید تشویش ظاہر کی ہے اور تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ معاہدے پر نیک نیتی سے دوبارہ کاربند ہوں اور اختلافات کو جامع مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔
پاکستانی مندوب کا موقف
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ قومی اتفاقِ رائے کی تجدید کا وقت ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صورتحال کو قابو میں نہ لایا گیا تو سب سے زیادہ نقصان جنوبی سوڈان کے عوام کو پہنچے گا اور اس کے سنگین علاقائی اثرات بھی مرتب ہوں گے۔
عاصم افتخار احمد نے مزید کہا کہ اس نازک مرحلے پر دوری اختیار کرنے کے بجائے مزید مؤثر اور فعال شمولیت ضروری ہے۔ انہوں نے یو این ایم آئی ایس ایس (UNMISS) کے کردار کو نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بڑھتی ہوئی سیاسی غیر یقینی صورتحال، بین القبائلی تشدد اور خطے پر اثرات کے پیش نظر مشن کا فعال اور مضبوط رہنا ناگزیر ہے۔
پاکستانی مندوب نے مشن کی آئندہ مدت میں توسیع کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ بنیادی ڈھانچے اور صلاحیتوں کو برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ جنوبی سوڈان کے عوام کی معاونت اور مزید بگاڑ کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے عملے کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کی اہمیت بھی اجاگر کی۔
عاصم افتخار احمد نے مالیاتی بحران کے باعث یو این ایم آئی ایس ایس کی آپریشنل صلاحیتوں پر پڑنے والے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ مشن کی گشتی سرگرمیوں میں کمی اور رسائی محدود ہونے سے شہریوں کے تحفظ اور امن دستوں کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
سلامتی کونسل کی جانب سے منظور شدہ 17 ہزار فوجیوں میں سے تقریباً 9 ہزار 700 اہلکار ہی یونیمس میں موجود ہیں، جبکہ پڑوسی ملک سوڈان میں جاری تنازع کے باعث اپریل 2023 سے اب تک تقریباً 13 لاکھ افراد جنوبی سوڈان منتقل ہو چکے ہیں، جس سے پہلے سے دباؤ کا شکار نظام پر مزید بوجھ پڑا ہے۔
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ یو این ایم آئی ایس ایس کی مدت میں توسیع کی جائے اور امن مشنز کے لیے مقررہ مالی واجبات بروقت اور مکمل طور پر ادا کیے جائیں۔