ایمنسٹی انٹرنیشنل کا پاکستان میں طلبہ یونینز پر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ
انسانی حقوق کے عالمی ادارے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستانی طلبہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں طلبہ یونینز پر عائد طویل المدتی پابندی فوری طور پر ختم کی جائے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں طلبہ یونینز پر پابندی کو 42 سال گزر چکے ہیں، تاہم اس کے اثرات آج بھی لاکھوں طلبہ کے بنیادی حقوق کو متاثر کر رہے ہیں۔ ادارے کے مطابق طلبہ یونینز پر پابندی شہری و سیاسی حقوق سے متعلق بین الاقوامی عہدنامے (International Covenant on Civil and Political Rights – ICCPR) کے آرٹیکل 21 کی خلاف ورزی ہے، جو پُرامن اجتماع کے حق کی ضمانت دیتا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ پابندی آزادیِ تنظیم سے متعلق آرٹیکل 22 اور آزادیِ اظہارِ رائے سے متعلق آرٹیکل 19 کے بھی منافی ہے۔ ایمنسٹی کے مطابق تعلیمی اداروں میں طلبہ کو نمائندہ تنظیمیں بنانے اور اپنے مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔
عالمی ادارے کا کہنا تھا کہ طلبہ یونینز آزاد، محفوظ اور جامع کیمپس ماحول کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ ان کے ذریعے طلبہ قیادت، مکالمے اور جمہوری عمل میں شرکت کی تربیت حاصل کرتے ہیں، جو کسی بھی معاشرے کی جمہوری نشوونما کے لیے ناگزیر ہے۔
ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مطالبہ کیا کہ پاکستان اپنے بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں کی پاسداری کرتے ہوئے طلبہ کو اجتماع، تنظیم سازی اور اظہارِ رائے کی آزادی یقینی بنائے۔