امریکی فوج کو بغاوت کا مشورہ دینے کے الزام میں 6 ڈیموکریٹ ارکان کے خلاف فردِ جرم کی درخواست مسترد

0

واشنگٹن – واشنگٹن میں ایک وفاقی گرینڈ جیوری نے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے کانگریس کے 6 ڈیموکریٹک قانون سازوں کے خلاف فردِ جرم عائد کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ جیوری کے ارکان کے مطابق متعلقہ قانون سازوں کے اقدامات فوجداری کارروائی کے معیار پر پورا نہیں اترتے۔

ویڈیو پیغام پر تنازع

استغاثہ کی جانب سے یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب مذکورہ ارکانِ کانگریس نے گزشتہ موسمِ خزاں میں ایک ویڈیو جاری کی تھی۔ ویڈیو میں فوج اور انٹیلی جنس اداروں کے اہلکاروں کو یاد دلایا گیا تھا کہ وہ آئین کے پابند ہیں اور غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

یہ ویڈیو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنی تھی اور اسے بعض حلقوں میں ریاستی اداروں کو بغاوت پر اکسانے کے مترادف قرار دیا گیا تھا۔

فردِ جرم کی کوشش ناکام

کیس سے واقف ذرائع کے مطابق وفاقی استغاثہ نے منگل کے روز ان چھ قانون سازوں کے خلاف فردِ جرم حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم گرینڈ جیوری نے اس مطالبے کو مسترد کر دیا۔

واشنگٹن میں پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر، جس کی قیادت صدر ٹرمپ کی قریبی حلیف جانین پیرو کر رہی ہیں، نے اس کیس کو جیوری کے سامنے پیش کرنے کی منظوری دی تھی۔

نشانہ بنائے گئے ارکان میں ایریزونا سے سینیٹر مارک کیلی اور مشی گن سے سینیٹر الیسا سلوٹکن بھی شامل ہیں، جو ماضی میں فوج یا انٹیلی جنس اداروں سے وابستہ رہ چکے ہیں۔

سیاسی و قانونی بحث

صدر ٹرمپ کے مقرر کردہ حکام کی جانب سے اس نوعیت کی فردِ جرم کی کوشش کو غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام فوجداری نظامِ انصاف کو سیاسی رنگ دینے اور سیاسی مخالفین کو دباؤ میں لانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔

دوسری جانب گرینڈ جیوری کے انکار کو عدالتی خودمختاری کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتظامی یا بیوروکریٹک اقدامات کا مطلب عدالتی نظام پر مکمل کنٹرول نہیں ہوتا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ گرینڈ جیوری کی جانب سے فردِ جرم کی درخواست مسترد ہونا تاریخی طور پر کم دیکھنے میں آتا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں سیاسی نوعیت کے متنازع مقدمات میں ایسے فیصلوں کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.