اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ٹی ٹی پی سے متعلق پاکستانی مؤقف کی توثیق

0

نیویارک/اسلام آباد – اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو افغانستان میں ایسا ماحول میسر ہے جس کی وجہ سے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے سے باہر بھی خطرہ بن سکتی ہے۔ رپورٹ میں اس امر پر زور دیا گیا ہے کہ افغانستان شدت پسند گروہوں کے لیے ایک فعال مرکز کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے، جس سے علاقائی سلامتی کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔

سلامتی کونسل کی 37ویں رپورٹ

یہ انتباہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تجزیاتی معاونت اور پابندیوں کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 37ویں رپورٹ میں شامل ہے، جو جولائی سے دسمبر 2025 تک کے عرصے کا احاطہ کرتی ہے۔ رپورٹ 4 فروری کو جاری کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں موجود ٹی ٹی پی نے پاکستان میں حملوں میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں سرحدی جھڑپیں اور فوجی کارروائیاں دیکھنے میں آئیں، جبکہ علاقائی تعلقات بدستور نازک رہے۔

خطے سے باہر خطرات کا خدشہ

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں رکن ممالک کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغانستان میں دستیاب سہولتوں کے باعث اس کی سرگرمیاں برقرار رکھنے اور توسیع دینے کی صلاحیت حاصل ہو رہی ہے، جس سے یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ تنظیم مستقبل میں خطے سے باہر بھی خطرہ بن سکتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ افغانستان میں دیگر دہشت گرد گروہوں کی موجودگی وسطی اور جنوبی ایشیا کے لیے بدستور تشویش کا باعث ہے۔

افغان عبوری حکومت کا مؤقف

رپورٹ کے مطابق افغان عبوری حکام کا مؤقف ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کوئی دہشت گرد گروہ موجود نہیں۔ تاہم دستاویز میں کہا گیا ہے کہ ’’کسی بھی رکن ملک نے اس مؤقف کی حمایت نہیں کی۔‘‘

اقوام متحدہ کی ٹیم نے مزید کہا کہ افغان حکام نے داعش خراسان کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں اور بعض دیگر گروہوں کی بیرونی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کوشش کی، تاہم ٹی ٹی پی کو نسبتاً زیادہ آزادی میسر رہی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف اس کے حملوں اور علاقائی کشیدگی میں اضافہ ہوا۔

پاکستان کی جوابی کارروائیاں

رپورٹ میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا کہ ٹی ٹی پی کے خلاف پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں نے تنظیم کو نمایاں نقصان پہنچایا، تاہم اس کے باوجود گروہ کی عملی صلاحیت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔

علاقائی اثرات

ماہرین کے مطابق سلامتی کونسل کی یہ رپورٹ پاکستان کے اس مؤقف کی توثیق کرتی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان مخالف سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ رپورٹ جنوبی اور وسطی ایشیا میں سلامتی کی صورتِ حال کو مزید پیچیدہ قرار دیتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.