بنگلہ دیش انتخابات: جماعت اسلامی کا دھاندلی کی صورت میں سخت ردعمل کا انتباہ، انتخابی عمل سبوتاژ کرنے والوں کی کوششیں ناکام ہوں گی، بی این پی

0

ڈھاکہ  —  بنگلہ دیش میں عام انتخابات اور آئینی ریفرنڈم کے لیے ووٹنگ جوش و خروش سے جاری ہے، جہاں مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کے بعد شفاف اور غیر جانبدار انتخابی عمل کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

شفیق الرحمان کا دھاندلی پر سخت موقف

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر ڈاکٹر شفیق الرحمان نے ووٹ ڈالنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر دھاندلی کے الزامات سنجیدہ نوعیت کے ہوئے تو ذمہ داروں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔

انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکل کر اپنا جمہوری حق استعمال کریں اور ملک کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کریں۔

شفیق الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر جماعت اسلامی کو کامیابی حاصل ہوتی ہے تو ملک میں پہلی اسلام پسند حکومت قائم ہو سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جماعت ایسے نتائج کی خواہاں ہے جو مکمل طور پر آزاد اور منصفانہ عمل کے ذریعے سامنے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر ووٹنگ غیر جانبدارانہ اور شفاف ہو گی تو وہ نتائج کو قبول کریں گے اور دیگر جماعتوں کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے، کیونکہ یہی جمہوری روایت کا تقاضا ہے۔

نیشنل سٹیزن پارٹی کا ردعمل

نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے سربراہ ناہید اسلام نے بھی اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت صرف آزاد اور منصفانہ انتخابات چاہتی ہے اور انہیں ہار یا جیت سے زیادہ انتخابی عمل کی شفافیت اہم ہے۔

ناہید اسلام نے بتایا کہ انہوں نے اپنی زندگی میں پہلی بار ووٹ ڈالا ہے اور انہیں امید ہے کہ اگر عوام کو آزادانہ طور پر ووٹ ڈالنے دیا گیا تو ان کی جماعت کامیاب ہو سکتی ہے۔

انہوں نے گزشتہ رات ملک کے مختلف حصوں میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کچھ عناصر ماحول کو کشیدہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے، تاہم ان کی جماعت تصادم سے گریز چاہتی ہے اور پرامن ووٹنگ کی حامی ہے۔

انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ بلا خوف و خطر پولنگ اسٹیشنز کا رخ کریں اور اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں۔

بی این پی قیادت کا ووٹ کاسٹ

بنگلہ دیش نیشنل پارٹی (بی این پی) کے چیئرمین طارق رحمان نے ڈھاکہ کے گلشن ماڈل ہائی اسکول میں اپنا ووٹ ڈالا۔ وہ 17 سال بعد برطانیہ سے وطن واپس آئے ہیں۔

بی این پی کے سیکرٹری جنرل مرزا فخرالاسلام عالمگیر نے اپنے والدین کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے بعد ٹھاکرگاؤں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پولنگ اسٹیشن پر ووٹ کاسٹ کیا۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مرزا فخرالاسلام نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو چکا ہے اور امید ہے کہ یہ راستہ سیاست، معیشت اور قومی استحکام کی جانب پیش رفت کا ذریعہ بنے گا۔

انہوں نے گزشتہ 17 برسوں کو جدوجہد کا دور قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں بے شمار افراد ظلم و ستم کا شکار ہوئے، اور آج عوام کو اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا موقع ملا ہے۔

گزشتہ رات پیش آنے والے واقعات کے بارے میں سوال پر انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر انتخابی عمل کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ ایسی کوششیں ناکام ہوں گی۔

مجموعی صورتحال

ملک بھر میں سخت سیکیورٹی انتظامات کے تحت پولنگ جاری ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ انتخابات نہ صرف نئی پارلیمنٹ کی تشکیل بلکہ بنگلہ دیش کے آئینی اور سیاسی مستقبل کے تعین کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔

تمام بڑی جماعتوں کی قیادت نے آزاد، منصفانہ اور غیر جانبدار انتخابات کی ضرورت پر زور دیا ہے، جبکہ عوامی شرکت کا تناسب انتخابی نتائج کے تعین میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.