مغربی کنارے میں کنٹرول کی توسیع فلسطینی حقِ خودارادیت کی خلاف ورزی ہیں، اقوام متحدہ

0

متحدہ، جنیوا – اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق وولکر ترک نے کہا ہے کہ مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی کنٹرول میں حالیہ اضافے کے اقدامات فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

جنیوا سے جاری بیان میں وولکر ترک نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں کنٹرول کو بڑھانے کے حالیہ فیصلے واپس لے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات ایک قابلِ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کو ناممکن بنانے کی جانب ایک اور قدم ہیں۔

وولکر ترک نے خبردار کیا کہ ان فیصلوں پر عمل درآمد کی صورت میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی اور ان کی زمینوں پر قبضہ تیز ہو جائے گا، اور مزید غیر قانونی اسرائیلی بستیاں قائم ہوں گی، جس سے فلسطینی عوام اپنے قدرتی وسائل اور بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہو جائیں گے۔

رپورٹ کے مطابق 8 فروری کو اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے مغربی کنارے کے ایریاز اے اور بی میں سول اتھارٹی کے اختیارات میں اضافے کی منظوری دی۔ یہ علاقے مغربی کنارے کے تقریباً 40 فیصد حصے پر محیط ہیں، اور اوسلو معاہدوں کے تحت بعض اختیارات فلسطینی اتھارٹی کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔

نئے اقدامات کے تحت اسرائیلی حکام اور افراد کو زمین حاصل کرنے کی اجازت دی جائے گی، جسے وولکر ترک نے قانونِ قبضہ کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس کے علاوہ الخلیل کے اہم علاقوں، مسجد ابراہیمی اور بیت الحم میں راحیل کے مقبرے پر بھی اسرائیلی انتظامی کنٹرول قائم کیا جائے گا تاکہ بستیوں کی توسیع تیز کی جا سکے۔
وولکر ترک نے کہا کہ یہ اقدامات نہ صرف زمینی بلکہ ثقافتی اور مذہبی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مغربی کنارے میں آبادکاروں اور سکیورٹی فورسز کی جانب سے فلسطینیوں پر حملے، جبری انخلا، گھروں کی مسماری اور نقل و حرکت پر پابندیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ہائی کمشنر نے مطالبہ کیا کہ ان فیصلوں کو فوری طور پر واپس لیا جائے، تمام غیر قانونی بستیوں کو خالی کیا جائے اور اسرائیلی قبضہ ختم کیا جائے، تاکہ فلسطینی عوام کے حقوق اور مستقبل کے لیے قابلِ عمل ریاست کی راہ ہموار ہو سکے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.