بنگلہ دیش انتخابات میں بی این پی کی دو تہائی اکثریت، جماعت اسلامی نے شکست تسلیم کرلی
ڈھاکہ – بنگلہ دیش کے 13ویں عام انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) نے غیر سرکاری نتائج کے مطابق دو تہائی اکثریت حاصل کر کے حکومت بنانے کی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مقامی ٹی وی چینلز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ 300 رکنی پارلیمان میں بی این پی اور اس کے اتحادیوں کو اب تک 212 نشستوں پر کامیابی ملی ہے جبکہ جماعت اسلامی اور اس کے اتحادی 70 نشستوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہیں۔
سرکاری سطح پر جاری ابتدائی نتائج کے مطابق بی این پی کو اب تک 100 نشستیں ملی ہیں اور حتمی نتائج کا انتظار ہے، تاہم پارٹی نے اپنی فتح کا دعویٰ کر دیا ہے۔
بی این پی کے سربراہ طارق رحمان نے دونوں نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ ملک کے اگلے وزیر اعظم ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان کا قیام نئی حکومت کی اولین ترجیح ہوگا اور کارکنوں سے جشن کے بجائے شکرانے کی دعاؤں کی اپیل کی۔
جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے انتخابی نتائج کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت مثبت اپوزیشن کا کردار ادا کرے گی۔
عبوری سربراہ محمد یونس نے عوام کی بھرپور شرکت کو جمہوری عمل کے لیے حوصلہ افزا قرار دیا جبکہ چیف الیکشن کمشنر اے ایم ایم ناصرالدین نے کہا کہ صرف گزٹ میں شائع ہونے والے نتائج ہی حتمی اور قانونی حیثیت رکھتے ہیں۔
ادھر بھارت میں مقیم سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے انتخابات کو مسترد کرتے ہوئے اسے “ڈھونگ” قرار دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق بی این پی کی یہ کامیابی دو دہائیوں بعد اقتدار میں واپسی کی راہ ہموار کرے گی اور سیاسی عدم استحکام کے بعد ملک میں نئی حکومت کے قیام سے معاشی اور انتظامی صورتحال میں بہتری کی توقع کی جا رہی ہے۔