بنگلہ دیش ریفرنڈم: 67 فیصد عوام نے آئینی اصلاحات کی حمایت کر دی

0

ڈھاکہ – بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے ساتھ ہونے والے قومی ریفرنڈم میں عوام کی واضح اکثریت نے آئینی اصلاحات کی حمایت کر دی۔ غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق 67 فیصد ووٹرز نے اصلاحات کے حق میں جبکہ 33 فیصد نے مخالفت میں ووٹ ڈالا۔

یہ ریفرنڈم ملک کے سیاسی و آئینی ڈھانچے میں بڑی تبدیلیوں کے لیے کرایا گیا تھا اور اس کا مقصد اقتدار کے ارتکاز کو روک کر گڈ گورننس، جمہوریت اور سماجی انصاف کو مضبوط بنانا بتایا گیا ہے۔

ریفرنڈم میں عوام سے صرف ایک سوال پر ہاں یا نہیں میں رائے لی گئی جس کے ذریعے چار بڑی آئینی ترامیم سمیت تقریباً 30 اصلاحات کی منظوری مانگی گئی تھی۔

یہ اصلاحاتی مسودہ عبوری سربراہ محمد یونس کے قائم کردہ نیشنل کنسنسس کمیشن نے مختلف سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بعد تیار کیا، تاہم عوامی لیگ اس عمل کا حصہ نہیں تھی۔

ریفرنڈم کا بنیادی فریم ورک جولائی نیشنل چارٹر ہے جو 2024 کی عوامی تحریک کے مطالبات کو قانونی شکل دینے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تحریک کے نتیجے میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کا طویل اقتدار ختم ہوا تھا۔

مجوزہ آئینی اصلاحات کی اہم نکات:

  • پارلیمنٹ کو دو ایوانوں پر مشتمل بنانا (ایوانِ بالا کا قیام)

  • آئینی ترامیم کے لیے سینیٹ کی منظوری لازمی قرار دینا

  • وزیر اعظم کی مدت کا تعین

  • صدر کے اختیارات میں اضافہ

  • نئے آئینی اداروں کا قیام

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر حتمی نتائج میں بھی یہی رجحان برقرار رہا تو بنگلہ دیش کے آئینی ڈھانچے میں تاریخی تبدیلیاں متوقع ہیں جو طاقت کے توازن کو ازسرنو ترتیب دیں گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.