وفاقی وزارت صحت کے ذیلی اداروں میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف

0

وفاقی وزارت صحت کے ذیلی اداروں میں کروڑوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہواہے،  پی اے سی کی ذیلی کمیٹی کو بتایا گیا کہ پمز میں قائداعظم پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج منصوبے میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ پولی کلینک اسپتال میں بھی کروڑوں روپے کی ادویات اور طبی سامان خلاف ضابطہ خریدا گیا۔

معین عامر پیرزادہ کی زیر صدارت اجلاس میں شیخ زید پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹیٹیوٹ لاہور سے متعلق آڈٹ اعتراض سامنے آیا۔ بتایا گیا کہ انتظامیہ کی جانب سے  ایک سو پچاسی ملین کی خلاف ضابطہ سرمایہ کاری کی گئی۔ سیکرٹری صحت نے بتایا کہ اس حوالے سے مکمل رولز بنا رہے ہیں ۔ کنوینر کمیٹی نے کہا کہ اب رولز بنانے کیوں یاد آئے؟ پہلے کیوں نہیں بنائے گئے۔ ایسے کتنے ادارے ہیں جن کے ابھی رولز نہیں ہیں؟ کمیٹی نے معاملے پر وزارت صحت سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پمز میں قائداعظم پوسٹ گریجویٹ میڈیکل کالج منصوبے میں کروڑوں روپے کی بے ضابطگیاں کی گئیں۔ صرف پچیس فیصد کام مکمل ہونے کے باوجود ٹھیکیدار کو مکمل ادائیگی کر دی گئی۔اس وجہ سے قومی خزانے کو آٹھ کروڑ باسٹھ  لاکھ روپے سے زائد نقصان ہوا۔ کیس تاحال زیر التوا ہے۔  پمز میں لیور ٹرانسپلانٹ سینٹر غیر فعال ہونے سے پندرہ کروڑ روپے سے زائد کی سرکاری رقم ضائع ہوئی۔ ۔  پی اے سی کی ذیلی کمیٹی میں پولی کلینک اسپتال میں اکیس کروڑ سینتالیس  لاکھ روپے کی ادویات ریپیٹ آرڈر پر خریدنے کا انکشاف کیا گیا۔سب سے کم بولی دینے والی کمپنی کو ٹھیکہ نہ دینے سے تین کروڑ سات لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔  کمیٹی نے وزارت خزانہ اور پمز حکام کو ایک ماہ میں معاملہ حل کرنے کی ہدایت کر دی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.