ایران ممکنہ نتائج سے بچنے کیلئے جوہری معاہدہ چاہتاہے، ٹرمپ

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے بڑا بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ تہران جوہری معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ کسی ڈیل نہ ہونے کی صورت میں ممکنہ نتائج کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ جاری مذاکرات نہایت اہم ہیں اور وہ بالواسطہ طور پر اس عمل کا حصہ رہیں گے۔

ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت عالمی سلامتی اور خطے کے استحکام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی مذاکرات کار اس بار ماضی کے مقابلے میں زیادہ لچک کا مظاہرہ کریں گے، تاہم انہوں نے انہیں “سخت ڈیلرز” قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ امریکہ اپنے مفادات پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

امریکی صدر کے مطابق ان کے سینئر معاونین اسٹیو وٹکوف اور جیریڈ کشنر جنیوا پہنچ چکے ہیں جہاں امریکی اور ایرانی وفود کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کا دوسرا مرحلہ شروع ہو رہا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات آئندہ معاہدے کی ممکنہ شکل اور پابندیوں میں نرمی جیسے اہم نکات پر مرکوز ہوں گے۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے کے لیے سخت اور قابلِ تصدیق فریم ورک ضروری ہے، جبکہ تہران بارہا یہ مؤقف دہرا چکا ہے کہ اس کا پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ پابندیوں کے خاتمے کے بغیر کسی نئے معاہدے پر آمادہ نہیں ہوگا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق جنیوا میں ہونے والی یہ بات چیت مشرقِ وسطیٰ کی بدلتی ہوئی اسٹریٹجک صورتحال، خلیج میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی توانائی منڈیوں پر ممکنہ اثرات کے تناظر میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ اگر مذاکرات میں پیش رفت ہوتی ہے تو اس سے نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم کسی واضح پیش رفت کے لیے دونوں جانب سے لچک اور اعتماد سازی کے اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.