جنیوا میں امریکہ اور ایران کے اعلیٰ سطحی جوہری مذاکرات آج ہونگے

0

جنیوا – امریکہ اور ایران آج جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات کے لیے ایک میز پر بیٹھیں گے، حالانکہ کسی فوری سمجھوتے کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ مذاکرات مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافے اور ایران کی بڑے پیمانے پر سمندری مشقوں کے تناظر میں ہو رہے ہیں۔

ایران نے زور دیا ہے کہ بات چیت کا دائرہ صرف جوہری پروگرام تک محدود رہے، جبکہ واشنگٹن پہلے بھی دیگر مسائل پر بات چیت کی خواہاں رہا ہے، جن میں تہران کے بیلسٹک میزائل اور خطے میں دہشت گرد گروپوں اور مسلح ملیشیا کی حمایت شامل ہیں۔

امریکی مذاکراتی ٹیم میں ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور جیرڈ کشنر شامل ہیں، جبکہ ایران کی جانب سے وزیر خارجہ عباس عراقچی اس مذاکراتی عمل کی قیادت کر رہے ہیں۔ عمان کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات بالواسطہ ہیں اور دونوں فریقین کی پوزیشن میں سختی برقرار ہے۔

دوسری جانب، ایران نے حال ہی میں آبنائے ہرمز میں فوجی مشقیں شروع کی ہیں، جو خطے کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتی ہیں اور تیل کی برآمد کے بین الاقوامی راستے کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ امریکی فوج بھی ممکنہ حملے کی تیاری میں مصروف ہے، اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر عسکری کارروائی کا حکم دیا۔

واضح رہے کہ مذاکرات کا پہلا دور 6 فروری کو عمان میں ہوا تھا، اور اس میں بھی بالواسطہ بات چیت کی گئی تھی۔ آج کے مذاکراتی دور کے انتظامات اور فارمیٹ کے حوالے سے ابھی حتمی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم بین الاقوامی مبصرین اس ملاقات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کے حوالے سے اہم قرار دے رہے ہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.