سانحہ سمجھوتا ایکسپریس کو 19 برس مکمل، متاثرین آج بھی انصاف کے منتظر
اسلام آباد/نئی دہلی – پاک بھارت دوستی کی علامت سمجھی جانے والی سمجھوتا ایکسپریس پر ہونے والے ہولناک حملے کو 19 برس بیت گئے، تاہم سانحے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ آج بھی انصاف کے منتظر ہیں۔
19 فروری 2007 کو دہلی سے لاہور جانے والی ٹرین کو بھارتی ریاست ہریانہ کے شہر پانی پت کے قریب بم دھماکے کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد بوگیوں میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس حملے میں 68 افراد جان سے گئے جن میں 43 پاکستانی اور 10 بھارتی شہری شامل تھے، جبکہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں ٹرین میں دیسی ساختہ بم نصب کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ بعد ازاں تفتیش کے دوران انتہا پسند ہندو تنظیم سے تعلق رکھنے والے ملزمان کے نام سامنے آئے جن میں کمل چوہان اور دیگر افراد شامل تھے۔ رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا کہ مبینہ طور پر بارودی مواد دہلی سے چلنے والی ٹرین میں رکھا گیا تھا۔
بھارتی فوج کے افسر لیفیٹیننٹ کرنل پروہت کا نام بھی تحقیقات کے دوران سامنے آیا جبکہ بعض رپورٹس میں شدت پسند تنظیم ابھینو بھارت کو حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا۔
تاہم بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی کی خصوصی عدالت نے شواہد ناکافی قرار دیتے ہوئے تمام ملزمان کو بری کر دیا تھا، جس پر متاثرہ خاندانوں اور انسانی حقوق کے حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا۔
پاکستانی حکومت اور مختلف سماجی حلقے وقتاً فوقتاً اس سانحے کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ نہ صرف پاک بھارت تعلقات پر گہرے اثرات کا باعث بنا بلکہ سرحد پار عوامی روابط کی علامت سمجھی جانے والی ٹرین سروس کو بھی شدید دھچکا پہنچا۔
سانحے کے متاثرین کے لواحقین کا کہنا ہے کہ تقریباً دو دہائیاں گزرنے کے باوجود انہیں انصاف نہیں ملا اور وہ آج بھی بین الاقوامی سطح پر غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔