اے آئی کی مدد سے 24 گھنٹوں میں ’’200 ملین ڈالر‘‘ جیسی فلمی ویڈیو تیار، سوشل میڈیا پر ہلچل
سوشل میڈیا پر ایک اے آئی جنریٹڈ سائنس فکشن ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے جس کے بارے میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ صرف 24 گھنٹوں میں ایسے سینماٹک مناظر تیار کیے گئے جو روایتی طور پر تقریباً 200 ملین ڈالر کے ہائی بجٹ فلمی معیار کے برابر سمجھے جاتے ہیں۔
یہ ویڈیو جرمن کریئیٹو اسٹوڈیو The Dor Brothers نے جاری کی، جس میں بڑے شہروں کی تباہی، دھماکوں، اور ہالی ووڈ طرز کے کیمرہ شاٹس دکھائے گئے ہیں۔ اسٹوڈیو کے مطابق اس پروجیکٹ میں نہ حقیقی اداکار استعمال ہوئے، نہ فزیکل سیٹس بنائے گئے اور نہ ہی روایتی ویژوئل ایفیکٹس پائپ لائن اپنائی گئی، بلکہ مکمل مواد مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کیا گیا۔
اس ویڈیو کو بنانے کے لیے DorLabs پلیٹ فارم کے اے آئی ٹولز استعمال کیے گئے جن کی مدد سے تصور سازی، بصری مناظر، کیمرہ موشن اور ایڈیٹنگ کے مراحل مکمل کیے گئے۔ عام حالات میں ایسے مناظر تیار کرنے کے لیے مہینوں کا وقت اور سینکڑوں وی ایف ایکس آرٹسٹس درکار ہوتے ہیں۔
تاہم 200 ملین ڈالر کا حوالہ اصل بجٹ نہیں بلکہ اس ویڈیو کی ’’پروڈکشن ویلیو‘‘ کے تقابلی اندازے کے طور پر دیا گیا ہے، جس کا مقصد یہ دکھانا تھا کہ اے آئی ٹیکنالوجی کس حد تک بڑے فلمی معیار کے مناظر تخلیق کر سکتی ہے۔
ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد صارفین کی جانب سے ملے جلے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض ناظرین نے فوٹو ریئلسٹک مناظر اور ہموار اینیمیشن کو سراہا، جبکہ ناقدین نے فزکس کی خامیوں، کرداروں کی عدم موجودگی اور کہانی کی کمزور گہرائی کو نشاندہی کرتے ہوئے اسے مکمل فلم کے بجائے ایک تکنیکی ڈیمو قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق یہ تجربہ اس بات کی علامت ہے کہ اے آئی بڑے پیمانے کے سینماٹک شاٹس کو کم وقت میں تیار کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہا ہے، تاہم انسانی اداکاری، جذباتی بیانیہ اور مضبوط کہانی جیسے عناصر اب بھی روایتی فلم سازی کی بنیادی طاقت ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اے آئی فیچر فلموں کی تیاری میں معاون کردار ادا کر سکتا ہے، جس سے فلمی صنعت کے ورک فلو، لاگت اور تخلیقی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔