غزہ بورڈ آف پیس اجلاس: سعودی عرب، یو اے ای اور قطر نے اربوں ڈالر امداد دینے کا اعلان، پاکستان کی فلسطینیوں سے یکجہتی

0

واشنگٹن — غزہ بورڈ آف پیس کے اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکی اور انڈونیشیا نے غزہ کے لیے مالی اور فوجی امداد کے بڑے اعلان کیے ہیں، جس سے مشرق وسطیٰ میں امن اور بحالی کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

مالی امداد کا اعلان

  • سعودی عرب: وزیر مملکت عادل الجبیر نے اعلان کیا کہ سعودی عرب غزہ کے لیے 1 ارب ڈالر فراہم کرے گا اور کہا کہ سعودی عرب مشرق وسطیٰ میں امن اور انصاف کے ساتھ کھڑا ہے۔
  • متحدہ عرب امارات (یو اے ای): وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زید النہیان نے کہا کہ یو اے ای غزہ کے لیے 1.2 ارب ڈالر فراہم کرے گا، کیونکہ خطے میں پائیدار امن اہم ضرورت ہے۔
  • قطر: وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمان الثانی نے اعلان کیا کہ قطر بورڈ آف پیس کے لیے 1 ارب ڈالر دے گا اور امن معاہدے پر فوری کام کرے گا۔

فوجی امداد اور حمایت

  • ترکی: وزیر خارجہ ھاقان فیدان نے کہا کہ غزہ کی بحالی کے لیے ترکی مربوط فوجی اور امدادی اقدامات کرے گا۔
  • انڈونیشیا: صدر نے اعلان کیا کہ وہ غزہ اسٹیبلائزیشن فورس کے لیے 8 ہزار یا اس سے زیادہ فوجی فراہم کرے گا۔

پاکستان کا موقف

وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

  • فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین پر پورا حق حاصل ہونا چاہیے اور دو ریاستی حل ناگزیر ہے۔
  • غزہ میں پائیدار امن پاکستان کا مشن ہے اور سیز فائر کی خلاف ورزیاں فوری ختم ہونی چاہئیں۔
  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کردار کی تعریف کی، کیونکہ ان کی مداخلت سے پاک بھارت جنگ بندی ممکن ہوئی اور ہزاروں جانیں بچیں۔

اجلاس کی اہمیت

مشرقی وسطیٰ میں اس تاریخی اجلاس کے دوران اعلان کی گئی امداد اور فوجی تعاون سے غزہ کی تعمیر نو اور شہری حفاظت میں مدد ملے گی، جبکہ بین الاقوامی شراکت داری خطے میں پائیدار امن کے قیام کی کوششوں کو بھی مضبوط بنائے گی۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.