پی ایس ایل فرنچائز سیالکوٹ کی فروخت: مالی بحران، نئے خریدار کی انٹری اور وسیم اکرم کی وضاحت
پاکستان سپر لیگ کی نئی فرنچائز ٹیم سیالکوٹ کے معاملات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں ٹیم کے تقریباً 90 فیصد شیئرز ایک نئی پارٹی کو فروخت کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق آسٹریلوی او زی گروپ کو سابقہ پارٹنرز کی دستبرداری کے بعد شدید مالی مشکلات کا سامنا تھا جس کے باعث واجبات کی بروقت ادائیگی ممکن نہ رہی۔
بینک گارنٹی کا معاملہ
او زی گروپ کی جانب سے ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے پاس بینک گارنٹی کیش کرانے کا اختیار موجود ہے۔ اس حوالے سے آئندہ ہفتے مزید پیش رفت متوقع ہے، جس سے فرنچائز کے مستقبل کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔
وسیم اکرم کا مؤقف
دوسری جانب سابق کپتان وسیم اکرم نے واضح کیا ہے کہ وہ سیالکوٹ اسٹالینز کے صدر نہیں رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کوئی باضابطہ معاہدہ نہیں ہوا تھا بلکہ صرف ابتدائی نوعیت کی زبانی بات چیت ہوئی تھی۔
فرنچائز کی فروخت کی تفصیلات
یاد رہے کہ پی سی بی نے گزشتہ ماہ پی ایس ایل کی نئی ٹیموں کی فروخت کے دوران:
-
ساتویں ٹیم کنگز مین کو 1 ارب 75 کروڑ روپے میں فروخت کیا
-
جبکہ آٹھویں ٹیم او زی گروپ کو 1 ارب 85 کروڑ روپے میں دی گئی
امریکی کمپنی نے اپنی ادائیگیاں بروقت مکمل کر دیں، تاہم آسٹریلوی گروپ کو مالی مشکلات کا سامنا رہا۔
پارٹنرز کی دستبرداری اور بحران
ذرائع کے مطابق نیلامی کے دوران بڈ بڑھنے پر او زی گروپ کے سیالکوٹ اور سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے پارٹنرز کو تشویش ہوئی۔ فرنچائز جیتنے کے بعد دونوں نے قیمت زیادہ ہونے کا جواز دے کر دستبرداری اختیار کر لی، جس کے بعد مکمل مالی بوجھ او زی گروپ پر آ گیا۔
گروپ نے تاخیر سے بینک گارنٹی جمع کرا کے معاہدہ ختم ہونے سے تو بچا لیا، تاہم فیس کی ادائیگی میں مشکلات برقرار رہیں۔
شیئرز کی فروخت اور تنازع
ابتدائی طور پر ایک نئی پارٹی کو 75 فیصد شیئرز فروخت کرنے پر اتفاق ہوا اور لاہور و کراچی میں پریس کانفرنس بھی کر دی گئی، مگر رقم وصول نہ ہونے پر دوبارہ نئے سرمایہ کار کی تلاش شروع کرنا پڑی۔ اس دوران پہلے ممکنہ خریدار کی جانب سے سنگین الزامات بھی عائد کیے گئے۔
اب تازہ اطلاعات کے مطابق نئی سرمایہ کار پارٹی 90 فیصد شیئرز خریدنے پر آمادہ ہے، جس سے فرنچائز کو مالی بحران سے نکالنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔