ٹرمپ کے مشیروں کی ایران پر حملے کی مخالفت، معیشت پر توجہ دینے کا مشورہ

0

ریاض – مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی طاقت میں اضافے اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ حملے کی تیاریوں کے درمیان وائٹ ہاؤس کے بعض مشیر انہیں ووٹرز کے معاشی خدشات پر توجہ دینے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

باخبر ذرائع کے مطابق امریکی انتظامیہ کے اندر ایران پر فوجی کارروائی کے حوالے سے کوئی متحد موقف موجود نہیں ہے، اور صدر ٹرمپ کے سخت بیانات کے باوجود متعدد اہلکار معیشت اور انتخابی حکمت عملی کو ترجیح دینے پر زور دے رہے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے اعلیٰ اہلکار کے مطابق، ریپبلکن مشیر روب گوڈفری نے صدر کو بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ طویل تنازع میں الجھنا سیاسی خطرہ بن سکتا ہے کیونکہ ووٹرز غیر ملکی فوجی مداخلت کے حوالے سے حساس ہیں۔ سینیٹر لنڈسے گراہم نے اعتراف کیا کہ متعدد مشیر ایران پر بمباری نہ کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں، تاہم انہوں نے صدر ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اس مشورے کو نظرانداز کریں۔

اہلکاروں نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ کی پالیسی "امریکہ فرسٹ” کے تحت ہے، اور وہ ہمیشہ سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ تہران کے ساتھ معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ صدر نے سختی سے کہا ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار یا یورینیم کی افزودگی کی صلاحیت نہیں ہونی چاہیے۔

یہ اطلاعات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات ریپبلکن پارٹی کے کانگریس پر کنٹرول کو طے کریں گے۔ ریپبلکنز اپنی انتخابی مہم میں گذشتہ سال کانگریس سے منظور شدہ ٹیکس چھوٹ، ہاؤسنگ کی لاگت میں کمی اور ادویات کی قیمتیں کم کرنے کے اقدامات کو نمایاں کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے گذشتہ جمعہ کو دوبارہ ایران کو خبردار کیا کہ وہ ایک منصفانہ معاہدے پر بات چیت کریں، ورنہ نتائج کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔

یہ خبر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور امریکی سیاست کے داخلی دباؤ کو واضح کرتی ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.