سپریم لیڈر قتل کے خدشات: خامنہ ای نے اہم اختیارات علی لاریجانی کو سونپ دیے

Supreme Leader assassination fears: Khamenei hands over key powers to Ali Larijani

ایران میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی اور ممکنہ امریکی حملے کے خدشات کے پیش نظر سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ملک کے اہم انتظامی اور سیکیورٹی امور اپنے قریبی ساتھی علی لاریجانی کے سپرد کر دیے ہیں۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق ایرانی اعلیٰ حکام، پاسداران انقلاب کے ارکان اور سابق سفارت کاروں نے بتایا کہ جنوری میں مظاہروں اور امریکی دھمکیوں کے بعد سے لاریجانی عملی طور پر حساس سیاسی اور سیکیورٹی معاملات سنبھال رہے ہیں۔ لاریجانی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سربراہ اور پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر رہ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یہ اقدامات سپریم لیڈر اور ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے خلاف ممکنہ قتل کے خدشات کے باعث کیے گئے ہیں، جبکہ ایرانی قیادت نے کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ریاستی نظام کی بقا کے لیے متبادل قیادت کے نام بھی طے کر لیے ہیں۔

حکام کے مطابق خامنہ ای نے ہدایت کی ہے کہ ہر اہم فوجی اور سرکاری عہدے کے لیے متعدد جانشین مقرر کیے جائیں تاکہ کسی حملے یا قیادت کو نشانہ بنانے کی صورت میں حکومتی ڈھانچہ برقرار رہ سکے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے اپنی مسلح افواج کو ہائی الرٹ پر رکھا ہوا ہے، مغربی سرحدوں اور جنوبی ساحلی علاقوں میں میزائل لانچ پیڈ نصب کیے گئے ہیں اور خلیج میں فوجی مشقیں بھی کی گئی ہیں، جن میں آبنائے ہرمز کی عارضی بندش کی مشق شامل ہے۔

ممکنہ جنگ کی صورت میں پاسداران انقلاب، بسیج فورسز، پولیس اور انٹیلی جنس اداروں کو بڑے شہروں میں تعینات کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا ہے تاکہ داخلی بدامنی اور بیرونی مداخلت کو روکا جا سکے۔

رپورٹ کے مطابق اگر اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو لاریجانی کو عبوری قیادت کے لیے اولین امیدوار سمجھا جا رہا ہے، جبکہ دیگر ممکنہ ناموں میں پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف اور سابق صدر حسن روحانی شامل ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات کے تیسرے دور کی تیاری جاری ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت اور ایرانی دفاعی تیاریوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے