افغان حکومت کی کابل، قندھار اور پکتیا میں پاک فضائیہ کے حملوں کا دعویٰ، کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، ذبیح اللہ مجاہد
کابل – افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فوج نے کابل، قندھار اور پکتیا کے بعض علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ ان حملوں میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم انہوں نے پاکستانی فوج کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق رات تقریباً 1 بج کر 50 منٹ پر کابل میں طالبان کے ایک فوجی مرکز کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ صوبہ پکتیا میں منصوری کور پر دو مرتبہ بمباری کی اطلاعات سامنے آئیں۔ قندھار کی فضاؤں میں بھی رات گئے فضائی سرگرمی دیکھی گئی۔ بعض افغان میڈیا اداروں کا دعویٰ ہے کہ رات 12 بجے کے بعد قندھار میں ایک پاکستانی طیارہ پرواز کرتا دیکھا گیا، تاہم اس حوالے سے کسی سرکاری ذریعے نے باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی۔
دوسری جانب سیکیورٹی ذرائع کا مؤقف ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج افغان طالبان کی مبینہ بلا اشتعال کارروائیوں کے جواب میں “آپریشن غضب للحق” کے تحت جوابی اقدامات کر رہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صبح 3 بج کر 40 منٹ تک افغان طالبان کے 133 جنگجو ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ کابل، پکتیا اور قندھار میں متعدد دفاعی اہداف کو فضائی اور زمینی کارروائیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
سرکاری دعووں کے مطابق افغان طالبان کی 27 پوسٹیں تباہ اور 9 پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ مزید برآں دو کور ہیڈکوارٹرز، تین بریگیڈ ہیڈکوارٹرز، دو ایمونیشن ڈپو، ایک لاجسٹک بیس، تین بٹالین ہیڈکوارٹرز، دو سیکٹر ہیڈکوارٹرز اور 80 سے زائد ٹینکس، آرٹلری گنز اور اے پی سیز تباہ کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔
دونوں جانب سے متضاد بیانات کے بعد خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور سیکیورٹی صورتحال پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اگر سرحدی جھڑپیں جاری رہیں تو پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں، جس کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔