اسرائیلی سپریم کورٹ نے غزہ میں امدادی تنظیموں پر حکومتی پابندی عارضی طور پر معطل کر دی
اسرائیل کی سپریم کورٹ نے غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں کام کرنے والی بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے خلاف حکومت کی جانب سے عائد پابندی کو عارضی طور پر معطل کرتے ہوئے تنظیموں کو فی الحال اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب اسرائیلی حکومت نے 37 امدادی اداروں کو نئے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی پر کام روکنے کا حکم دیا تھا۔
عدالتی حکم کے مطابق تنظیمیں اس وقت تک اپنے بیشتر انسانی ہمدردی کے پروگرام جاری رکھ سکیں گی جب تک عدالت ان کی دائر کردہ اپیلوں پر حتمی فیصلہ نہیں سناتی۔ متاثرہ اداروں میں Doctors Without Borders، Oxfam، Norwegian Refugee Council اور CARE International شامل ہیں۔
اسرائیلی حکام نے دسمبر میں ان تنظیموں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے اسرائیل میں ورک رجسٹریشن کی مدت ختم ہو چکی ہے اور انہیں اپنے فلسطینی عملے کی ذاتی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ امدادی اداروں نے اس شرط کو سیکیورٹی اور انسانی حقوق کے حوالے سے خطرناک قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔
دوسری جانب امدادی تنظیموں اور مقامی ذرائع نے غزہ کی مجموعی صورتِ حال کو بدستور ’’تباہ کن‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق پابندیوں کے باعث خوراک، طبی سہولیات اور دیگر بنیادی انسانی خدمات متاثر ہو رہی ہیں، جبکہ عدالتی ریلیف نے عارضی طور پر امدادی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کا راستہ فراہم کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ عبوری حکم ایک اہم قانونی پیش رفت ہے، تاہم اس معاملے کا حتمی فیصلہ خطے میں انسانی امداد کے مستقبل اور اسرائیل کی پالیسی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔