ایرانی حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں، فوجی اڈوں کو محدود نقصان پہنچا، امریکی فوج کا دعویٰ
واشنگٹن/مشرقِ وسطیٰ — امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کہا ہے کہ ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں میں خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو کچھ نقصان ضرور پہنچا ہے، تاہم کسی امریکی فوجی کے ہلاک یا زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔
CENTCOM کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اسرائیل کے ساتھ مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ایرانی فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔ بیان میں کہا گیا کہ آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں فضائی، زمینی اور بحری پلیٹ فارمز سے عین مطابق ہتھیار استعمال کیے گئے، جبکہ پہلی بار کم لاگت یک طرفہ حملہ آور ڈرون بھی لڑائی میں استعمال کیے گئے۔
امریکی فوج کے مطابق نشانہ بنائے گئے اہداف میں اسلامی انقلابی گارڈ کور کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، فضائی دفاعی نظام، میزائل و ڈرون لانچنگ سائٹس اور فوجی ہوائی اڈے شامل تھے، جنہیں "قریب الوقوع خطرہ” قرار دیا گیا تھا۔
CENTCOM کے کمانڈر ایڈم بریڈ کوپر نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حکم پر کارروائی کی گئی اور امریکی و اتحادی افواج نے سینکڑوں ایرانی میزائلوں اور ڈرون حملوں کے خلاف کامیاب دفاع کیا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی تنصیبات کو معمولی نقصان پہنچا ہے لیکن اس سے آپریشنل صلاحیت متاثر نہیں ہوئی، اور خطے میں امریکی افواج پوری طرح فعال ہیں۔
یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ وہ امریکی اور اسرائیلی اہداف کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھے گا، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔