ایران کے سپریم لیڈر کی ہلاکت کا دعویٰ، تہران کی سخت تردید — خطے میں سنسنی خیز اطلاعاتی جنگ

0

واشنگٹن/تل ابیب/تہران — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای ایک مشترکہ امریکی۔اسرائیلی حملے میں مارے جا چکے ہیں، تاہم ایرانی حکام نے اس دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا بیان میں کہا کہ خامنہ ای کی موت ایرانی عوام کے لیے “اپنا ملک واپس لینے کا سب سے بڑا موقع” ہے اور ایران پر بمباری اہداف کے حصول تک جاری رہے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز لڑنے کے لیے تیار نہیں اور امریکی و اسرائیلی انٹیلی جنس نے مشترکہ کارروائی میں ایرانی قیادت کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی ذرائع کے مطابق زیرِ زمین بنکر سے خامنہ ای کی میت ملنے اور درجنوں قریبی ساتھیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بعض میڈیا رپورٹس میں کہا گیا کہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان، سابق صدر محمود احمدی نژاد، مسلح افواج کے چیف آف اسٹاف محمد باقری، مشیرِ اعلیٰ علی شمخانی اور دیگر اعلیٰ حکام کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ اور خامنہ ای کے دفتر نے ان خبروں کو “نفسیاتی جنگ” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم لیڈر محفوظ مقام پر ہیں اور جنگی حکمت عملی کی قیادت کر رہے ہیں۔ ایران کی قومی سلامتی کے سیکریٹری علی لاریجانی نے خبردار کیا کہ امریکہ اور اسرائیل کو “ناقابلِ فراموش سبق” دیا جائے گا۔

اسرائیلی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ خامنہ ای کے کمپاؤنڈ پر درجنوں بم گرائے گئے اور آئندہ دنوں ایران میں مزید ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اب تک کسی غیر جانب دار بین الاقوامی ذریعے سے ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔

ماہرین کے مطابق اس مرحلے پر متضاد بیانات اور غیر مصدقہ اطلاعات خطے میں معلوماتی جنگ (Information Warfare) کا حصہ بھی ہو سکتی ہیں۔ حتمی صورتِ حال واضح ہونے تک دعوؤں اور تردیدوں کے درمیان کشیدگی برقرار رہنے کا امکان ہے۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.