ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ علی خامنہ ای شہید، ایران میں 40 روزہ سوگ کا اعلان
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حملے میں ان کے بیٹے اور بہو بھی جان کی بازی ہار گئے۔
ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں ملک کے 24 صوبوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں معصوم طالبات سمیت کم از کم 201 شہری شہید اور 747 سے زائد زخمی ہوئے۔ حکام کے مطابق یہ حملے متعدد عسکری اور حساس مقامات پر کیے گئے جبکہ شہری علاقوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔
سرکاری اعلان کے مطابق سپریم لیڈر کی شہادت پر ملک بھر میں 40 روزہ سوگ اور 7 روزہ عام تعطیلات کا اعلان کیا گیا ہے۔ ایران کے مختلف شہروں میں سوگ کی تقریبات، سیکیورٹی ہائی الرٹ اور عوامی اجتماعات کی اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سپریم لیڈر کی میت کی تصاویر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو دکھائی گئی ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔
خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور متعدد ممالک اس تنازع سے متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ ماہرین اسے مشرقِ وسطیٰ کی ایک بڑی جنگ کا آغاز قرار دے رہے ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے مطالبات بھی سامنے آ رہے ہیں، تاہم زمینی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے۔