ملٹری کمان تباہ، اہلکار ہتھیار ڈالنے کے خواہاں ہیں، ایرانی قیادت کے لیے تین امیدوار، ٹرمپ کا دعویٰ

0

واشنگٹن – امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت کے لیے ان کے پاس تین ناموں کی مختصر فہرست موجود ہے، تاہم انہوں نے ان ناموں کا انکشاف نہیں کیا۔

صدر ٹرمپ نے نیویارک ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں چار سے پانچ ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، اور ایران پر حملوں کی شدت کو مزید بڑھانا ان کے لیے مشکل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ "ہتھیاروں کی بڑی تعداد موجود ہے اور دنیا بھر میں مختلف مقامات پر ذخیرہ کیے گئے ہیں۔”

ایک اور انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ جانتے ہیں کہ اس وقت ایران میں فیصلے کون کر رہا ہے، مگر اس کا نام ظاہر نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں جنہیں ہم ایران کی قیادت میں دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن ابھی نام ظاہر نہیں کریں گے، پہلے کام مکمل کر لیں۔”

دریں اثنا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی ملٹری کمان مکمل طور پر تباہ ہوچکی ہے اور متعدد ایرانی اہلکار ہتھیار ڈالنے کے خواہاں ہیں۔ اپنے ویڈیو پیغام میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ پاسداران انقلاب کی تنصیبات، ایرانی فضائی دفاعی نظام، اور 9 بحری جہاز نشانہ بنائے گئے، جبکہ ایرانی بحریہ کی عمارت بھی تباہ کی گئی۔

صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکی فوجی آپریشن کے اہداف مکمل ہونے تک جاری رہیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاسداران انقلاب، ایرانی فوج اور پولیس کو ہتھیار ڈالنے کی صورت میں استثنیٰ حاصل ہو سکتا ہے، بصورت دیگر انہیں موت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

برطانوی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ تقریباً چار ہفتے جاری رہ سکتی ہے اور اب تک ایران کی 48 اہم شخصیات مار دی گئی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سعودی عرب سمیت خطے کے دیگر ممالک لڑائی میں شامل ہیں اور ایران کے خلاف کارروائی میں شریک ہیں۔

صدر ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ تمام کارروائیاں منصوبے کے مطابق ہو رہی ہیں اور ایرانی قیادت کے بڑے حصے کو نشانہ بنایا جا چکا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے بعد ایران میں جمہوریت قائم ہونے اور خطے میں مثبت تبدیلیوں کی توقع ہے۔

صدر ٹرمپ نے آخر میں کہا کہ امریکی حکومت ایران سے مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم اس کی جلدی ممکن ہونے کی کوئی ضمانت نہیں۔

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.