پینٹاگون نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کیا: ایران نے امریکی افواج پر حملے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی
واشنگٹن – پینٹاگون نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے خلاف حالیہ امریکی اور اسرائیلی حملوں سے قبل کوئی خفیہ اطلاعات موجود نہیں تھیں جو یہ ظاہر کرتیں کہ ایران پہلے امریکی افواج پر حملہ کرنے والا تھا۔
امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر گزشتہ کئی دہائیوں کے سب سے بڑے حملے کیے، جن میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو نشانہ بنانے، ایرانی جنگی جہازوں کو تباہ کرنے اور تقریباً ایک ہزار اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق امریکی کانگریس کو دی گئی بریفنگ میں یہ بات سامنے آئی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملے کا فیصلہ جزوی طور پر اس بنیاد پر کیا کہ ایران مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج پر ممکنہ طور پر حملہ کر سکتا تھا، تاہم پینٹاگون کے عہدیداروں نے واضح کیا کہ ایسی کوئی خفیہ اطلاع موجود نہیں تھی۔
عہدیداروں نے کہا کہ ایران کے بیلسٹک میزائل اور اس کے حمایت یافتہ گروہ امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہیں، لیکن ایران پہلے حملہ کرنے والا نہیں تھا۔ بریفنگ میں ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ پر انتخابی مقاصد کے لیے جنگ مسلط کرنے کا الزام عائد کیا، اور امن مذاکرات ترک کرنے پر سوال اٹھایا گیا، جن میں ثالثی کرنے والے ملک عمان نے کہا تھا کہ اب بھی پیش رفت کی امید موجود تھی۔
ٹرمپ کے دعوے کے برعکس، امریکی انٹیلی جنس رپورٹس نے یہ مؤقف توثیق نہیں کیا اور اسے مبالغہ آمیز قرار دیا گیا۔