لبنان حکومت نے حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی لگا دی، اسرائیلی فضائی حملوں میں 52 افراد شہید
بیروت – لبنان کی حکومت نے پیر کے روز حزب اللہ کی فوجی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی، جس کے بعد ملک میں سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ایران کے سپریم لیڈر کے قتل کے مبینہ بدلے کے طور پر حزب اللہ نے اسرائیل کی جانب راکٹ اور ڈرون حملے کیے۔
حکومتی اقدام کو حزب اللہ کے ایک سینئر رہنما نے مسترد کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا، جبکہ مبصرین کے مطابق یہ فیصلہ لبنان کے داخلی طاقت کے توازن میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔ 2024 کی جنگ کے دوران اسرائیلی کارروائیوں سے کمزور ہونے کے بعد پہلے سے طاقتور سمجھے جانے والے گروپ کی سیاسی پوزیشن میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کے اثرات خانہ جنگی کے بعد بننے والے نظام پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
لبنان کی وزارت صحت کے ایک اہلکار کے مطابق اسرائیل نے حزب اللہ کے حملوں کے جواب میں بیروت کے جنوبی مضافات، جو حزب اللہ کا مضبوط گڑھ سمجھے جاتے ہیں، سمیت ملک کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں کم از کم 52 افراد شہید جبکہ 150 سے زائد زخمی ہو گئے۔
حکومتی پابندی اور اسرائیلی کارروائیوں کے بعد لبنان میں داخلی کشیدگی بڑھنے اور حزب اللہ اور ریاستی اداروں کے درمیان ٹکراؤ کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جس سے خطے میں مزید عدم استحکام کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔