نیٹو کا ایران کے خلاف جنگ میں شمولیت سے انکار، انفرادی ممالک حمایت کر سکتے ہیں
برسلز – شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی میں بطور اتحاد شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے برسلز میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی جوہری اور بیلسٹک میزائل صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کی جانے والی کارروائیاں اہم سمجھی جا سکتی ہیں، تاہم نیٹو بطور اتحاد اس میں شامل نہیں ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کو اس تنازع میں گھسیٹنے یا اسے باضابطہ طور پر فریق بنانے کا کوئی منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ اتحاد اجتماعی طور پر اس جنگ کا حصہ نہیں بنے گا، تاہم انفرادی رکن ممالک امریکا کی کوششوں کی اپنی سطح پر حمایت کر سکتے ہیں۔
مارک روٹے نے زور دیا کہ نیٹو کی ترجیح رکن ممالک کی اجتماعی دفاعی ذمہ داریوں اور یورپی سلامتی کو یقینی بنانا ہے، اور کسی بھی بڑے عسکری اقدام میں شمولیت کا فیصلہ اتحاد کی متفقہ پالیسی کے مطابق کیا جاتا ہے۔
نیٹو کے اس مؤقف کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ایک محتاط سفارتی اشارہ قرار دیا جا رہا ہے۔