مشرق وسطیٰ کشیدگی، سونے کی قیمت کہاں پہنچے گی؟ بڑی پیشگوئی

0

امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد 28 فروری کو عالمی گولڈ مارکیٹ میں سونے کی قیمتیں تمام سابقہ ریکارڈ توڑ کر 5,400 ڈالر فی اونس کی نفسیاتی حد عبور کر گئی ہیں۔

پیر (2 مارچ) کو عالمی منڈی کھلتے ہی سونے کی قیمت میں 2 سے 3 فیصد تک کا فوری اضافہ دیکھا گیا۔ اسپاٹ گولڈ کی قیمت 5,400 ڈالر سے تجاوز کر گئی، جبکہ بعض فیوچر ٹریڈز میں یہ 5,500 ڈالر تک دیکھی گئی۔

ماہرین کے مطابق ایشیائی منڈیوں میں بھی سونے کی قیمتوں میں زبردست اچھال آیا ہے۔ جنگ کے سائے گہرے ہوتے ہی سرمایہ کاروں نے اسٹاک مارکیٹ اور دیگر اثاثوں سے پیسہ نکال کر سونے میں لگانا شروع کر دیا ہے۔

تہران اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر حصوں میں فضائی حدود کی بندش اور بحیرہ عرب میں کشیدگی نے سونے کی طبعی منتقلی کو متاثر کیا ہے۔ دبئی جو کہ سونے کی تجارت کا بڑا مرکز ہے، وہاں سے ترسیل میں تاخیر کی وجہ سے مقامی منڈیوں میں سونے کی قلت اور قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

اس وقت عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ ہے اور ماہرین سرمایہ کاروں کو محتاط رہنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع طول پکڑتا ہے اور ایران کی جانب سے مزید جوابی کارروائیاں ہوتی ہیں، تو سونا 2026 کے آخر تک 6,000 سے 6,300 ڈالر فی اونس تک پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان میں سونے کی قیمت میں ریکارڈ اضافے کے بعد  ہزاروں روپے کی بڑی کمی دیکھنے میں آئی ہے، جہاں فی تولہ سونے کی قیمت میں 13900 روپے اور 10 گرام سونے کی قیمت میں 11917 روپے کمی ہوئی ہے۔

اس کمی پر تاجروں کا کہنا ہے کہ سال 2026 کے پہلے ہفتے میں ہم نے دیکھا کہ سونے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا۔ عالمی منڈی میں سونا 5580 ڈالر فی اونس تک ٹریڈ ہوا اور پاکستان میں تاریخ کی بلند ترین سطح 570000 روپے فی تولہ تک پہنچ گیا۔ دوسرے ہفتے میں مندی کا رجحان آیا، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تقریباً 800 ڈالر فی اونس کمی واقع ہوئی اور پاکستان میں سونا 504500 روپے فی تولہ پر ٹریڈ ہونے لگا۔

اس صورتحال میں اتنے بڑے اتار چڑھاؤ نے جیولرز اور مینوفیکچررز کو بری طرح متاثر کیا۔ فروخت نہ ہونے کی وجہ سے کاروبار متاثر ہوا اور مارکیٹوں میں سناٹا چھا گیا

About The Author

Leave A Reply

Your email address will not be published.