امریکی سینیٹ میں ایران کے خلاف جنگ پر ڈیموکریٹک سینیٹرز کی شدید تنقید
واشنگٹن – امریکی سینیٹ میں ڈیموکریٹک سینیٹر ایلزبتھ وارن نے ایران کے خلاف جاری جنگ پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ غیر قانونی جنگ جھوٹ پر مبنی ہے۔
سینیٹر وارن نے کہا کہ خفیہ بریفنگ کے بعد انہیں یہ تاثر ملا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس ایران سے متعلق کوئی واضح حکمتِ عملی موجود نہیں۔ ان کے مطابق صورتحال تصور سے بھی زیادہ خراب ہے اور اسی وجہ سے وہ پہلے سے زیادہ فکرمند ہیں۔
جنگ کے جواز پر تشویش
ڈیموکریٹک اقلیتی لیڈر چک اسکمر نے بھی انٹیلی جنس کمیٹی کی بریفنگ کے بعد کہا کہ جنگ کا جواز بار بار بدل رہا ہے۔ کبھی رجیم چینج، کبھی نیوکلیئر ہتھیار، کبھی میزائل پروگرام اور کبھی دفاع کا مؤقف اختیار کیا جا رہا ہے، جس سے واضح منصوبہ بندی کی کمی ظاہر ہوتی ہے۔
انسانی نقصان اور زمینی افواج کا امکان
سینیٹر وارن نے مزید کہا کہ یہ جنگ ایران کی جانب سے امریکا کے لیے فوری خطرہ نہ ہونے کے باوجود شروع کی گئی اور اس میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔ انہوں نے جنگ کے خاتمے کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا عزم ظاہر کیا۔
ڈیموکریٹک سینیٹر رچرڈ بلومینتھل نے خدشہ ظاہر کیا کہ امریکا ممکنہ طور پر ایران میں زمینی افواج بھیجنے پر غور کر رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
برنی سینڈرز کا مؤقف
سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو کو غزہ کو تباہ کرنے کے لیے اربوں ڈالر درکار تھے، جو امریکا نے فراہم کیے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو ایران کے ساتھ جنگ چاہتا تھا اور ٹرمپ نے اس خواہش کو بھی پورا کر دیا، جس سے خطے میں حالات مزید پیچیدہ ہوئے ہیں۔