فرانس نے طیارہ بردار جہاز شارل ڈیگول بحیرۂ روم میں تعینات کردیا
پیرس – مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر فرانس نے اپنے طاقتور طیارہ بردار بحری جہاز Charles de Gaulle کو آبنائے جبرالٹر عبور کرنے کے بعد بحیرۂ روم میں تعینات کردیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور کئی مغربی ممالک اپنے مفادات اور شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فرانسیسی بحریہ کا یہ جدید جنگی جہاز اس سے قبل شمالی یورپ میں NATO کے ایک مشن میں حصہ لے رہا تھا، تاہم فرانس کے صدر Emmanuel Macron نے بدلتی علاقائی صورتحال کے پیش نظر اسے فوری طور پر مشرقی بحیرۂ روم کی جانب روانہ کرنے کا حکم دیا۔
فرانسیسی حکومت کے مطابق اس اقدام کا مقصد خطے میں موجود فرانسیسی شہریوں، فوجی اڈوں اور اتحادی ممالک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بحیرۂ روم میں اس طیارہ بردار جہاز کی موجودگی فرانس کی دفاعی تیاریوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل کی صلاحیت کو بھی بڑھائے گی۔
صدر میکرون نے اپنے بیان میں کہا کہ فرانس خطے میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے۔ ان کے مطابق فرانس اس وقت کسی جنگ کا حصہ نہیں بن رہا بلکہ اس کی فوجی موجودگی کا مقصد صرف اپنے شہریوں، فوجی اہلکاروں اور اتحادی ممالک کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق طیارہ بردار جہاز شارل ڈیگول فرانس کا سب سے اہم بحری جنگی پلیٹ فارم ہے جو جدید لڑاکا طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور جدید دفاعی نظام سے لیس ہے۔ اس جہاز کی بحیرۂ روم میں تعیناتی کو خطے میں فرانس کی اسٹریٹجک موجودگی کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔