چین کی ایران کے نئے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی مخالفت، خودمختاری کے احترام پر زور

چین کی ایران کے نئے سپریم لیڈر کو نشانہ بنانے کی مخالفت، خودمختاری کے احترام پر زور

بیجنگ/تہران  – چین نے ایران کے نئے سپریم لیڈر Mojtaba Khamenei کو نشانہ بنانے کی کسی بھی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران میں قیادت کا تعین ایک آئینی اور داخلی معاملہ ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران میں نئے سپریم لیڈر کے تقرر پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ China کسی بھی بہانے سے دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کی مخالفت کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔

چین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے نئے سپریم لیڈر کے حوالے سے عالمی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ امریکا کے قریبی اتحادی اور ریپبلکن سینیٹر Lindsey Graham نے مجتبیٰ خامنہ ای کو دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا انجام بھی وہی ہو سکتا ہے جو ان کے والد Ali Khamenei کا ہوا۔

یاد رہے کہ 56 سالہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو ایران کے سپریم لیڈر کے عہدے پر Assembly of Experts نے نامزد کیا ہے۔ 88 رکنی مذہبی و آئینی ادارے نے انہیں اکثریتی رائے کی بنیاد پر ایران کے موجودہ نظام کے تیسرے رہنما کے طور پر منتخب اور متعارف کرایا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایران میں قیادت کی تبدیلی کے بعد خطے کی سیاسی صورتحال اور عالمی سفارت کاری پر اس کے اثرات گہرے ہو سکتے ہیں، جبکہ عالمی طاقتیں اس پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے