بھارتی پارلیمنٹ نے زبردست مخالفت کے باوجود وقف املاک سے متعلق ایک متنازع بل منظور کر لیا ہے، جس میں مسلم مذہبی جائیدادوں پر حکومتی کنٹرول بڑھانے کی دفعات شامل ہیں۔ اس قانون کے تحت وقف بورڈ میں غیر مسلم افراد کی شمولیت کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور سرکاری حکام کو مسلم اوقاف پر مزید اختیارات دیے گئے ہیں۔
اہم نکات:
بل کے حق میں 288 اور مخالفت میں 232 ووٹ ڈالے گئے۔
وقف بورڈ کو اب جائیداد کی ملکیت کے لیے سرکاری منظوری درکار ہوگی۔
ناقدین کے مطابق، یہ قانون مساجد اور درگاہوں کی زمین کے تنازعات کو ہوا دے سکتا ہے۔
مسلم تنظیموں نے اسے اقلیتوں کے حقوق پر حملہ قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ اس کا مقصد شفافیت اور بدعنوانی کا خاتمہ ہے۔
اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے بل کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقلیتوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہے۔ کئی مقامات پر احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے، جبکہ حکمراں بی جے پی نے اسے اصلاحاتی اقدام قرار دیا ہے۔
بل کو اب ایوان بالا (راجیہ سبھا) میں منظوری کے لیے بھیجا جائے گا، جہاں اس پر مزید بحث متوقع ہے۔ اس متنازع قانون کی وجہ سے بھارت میں مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق سے متعلق ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے۔
