لاہور ہائیکورٹ نے وفاقی حکومت سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کرنے کا مکنیزم طلب کر لیا۔
لاہور ہائیکورٹ کےجسٹس خالد اسحاق نےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے لئےدائر جوڈیشل ایکٹوازیم پینل کی درخواست پرسماعت کی،وکیل درخواست گزار نےبتایاکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کاکوئی نظام موجود ہی نہیں،حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں پچپن روپے فی لیٹر اضافہ کردیا،یہ اضافہ غیر قانونی اورعوام دشمن اقدام ہے۔
وکیل کےمطابق پٹرولیم قیمتوں میں اضافے سےٹرانسپورٹ،بجلی،زراعت اور اشیائے خور و نوش مہنگی ہوں گی،آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے پاس اسٹاک موجود ہونے کے باوجودقیمتیں بڑھانا غیر قانونی ہے،درخواست میں استدعا کی گئی ہےکہ اوگرا اور وزارت توانائی پندرہ دن کےپیٹرولیم ذخائرکی تفصیلات عدالت میں پیش کرے۔
دوران سماعت جسٹس خالد اسحاق نےوفاقی حکومت کے وکیل سے استفسارکیا کہ اٹھائیس دن کا اسٹاک تھا تو کس بنیاد پر پچپن روپےقیمتیں بڑھائی گئیں جب ایک مرتبہ مہنگائی ہوجائے تو واپس کیسے آئے گی ؟ بنیادی حقوق کا تحفظ کیسے ہوگا ؟
عدالت کی معاونت کریں کہ ان چیزوں کو کنٹرول کرنےکا طریقہ کار کیا ہوگا ؟عدالت نے وفاقی حکومت سےپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے تعین کا میکنزم طلب کرتے ہوئے کارروائی پچیس مارچ تک ملتوی کردی۔
