تہران – ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات اب ایرانی ایجنڈے میں شامل نہیں ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ضرورت پڑنے پر ایران اپنے میزائل حملے جاری رکھنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
اسی حوالے سے ایران کے سپریم لیڈر کے خارجہ پالیسی کے مشیر Kamal Kharazi نے بھی کہا کہ امریکا کے ساتھ سفارت کاری کی گنجائش ختم ہو چکی ہے اور ایرانی فوج طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی یہ موقف واضح کرتا ہے کہ تہران اب عسکری ردعمل کو ترجیح دے رہا ہے اور خطے میں کشیدگی کے دوران کسی بھی قسم کی سفارتی پیش رفت کی توقع محدود ہے۔
