واشنگٹن – امریکی سینیٹرز نے ایران کے خلاف جاری جنگ کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی پالیسیوں سے امریکی افواج اور شہری شدید خطرات سے دوچار ہو رہے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق ایران جنگ سے متعلق امریکی سینیٹرز کو ایک کلاسیفائیڈ بریفنگ دی گئی جسے متعدد ڈیموکریٹک سینیٹرز نے غیر تسلی بخش قرار دیا۔
سینیٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی نااہلی خطرناک اور تباہ کن ثابت ہو رہی ہے اور ان کے فیصلوں سے امریکی فوج اور شہریوں کو خطرے میں ڈالا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے صرف ایک ماہ کے دوران 93 ارب ڈالر خرچ کر دیے۔
چک شومر نے صدر ٹرمپ کے ایک بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ صدر نے دعویٰ کیا تھا کہ ایرانی ٹوماہاک میزائلوں سے اسکول کی بچیاں ہلاک ہوئیں، حالانکہ ایران کے پاس ٹوماہاک میزائل موجود ہی نہیں۔ ان کے بقول صدر ٹرمپ بغیر سوچے سمجھے بیانات دیتے ہیں۔
اسی طرح سینیٹر بلیو مینتھل نے بھی بریفنگ پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس صورتحال پر شدید غصے میں ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی فوجیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران میں امریکی فوج اتارنے کے امکان کو مسترد نہیں کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران کے ساتھ جاری جنگ میں اب تک 8 امریکی فوجی ہلاک جبکہ تقریباً 150 زخمی ہو چکے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے باعث امریکی سیاست میں بھی اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
