بنگلا دیش کے خلاف شکست کے بعد شاہد آفریدی کی سلیکشن کمیٹی پر سخت تنقید

شاہد آفریدی کی کراچی چھوڑ کر مستقل اسلام آباد منتقلی کی تصدیق، سیاست سے متعلق مؤقف بھی واضح

کراچی – پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان Shahid Afridi نے بنگلا دیش کے خلاف ون ڈے سیریز میں شکست اور حالیہ عالمی مقابلوں میں مایوس کن کارکردگی کے بعد قومی سلیکشن کمیٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

اپنے سوشل میڈیا پیغام میں آفریدی نے کہا کہ ٹیم کی حالیہ ناکامیوں کی بنیادی ذمہ داری سلیکشن کمیٹی پر عائد ہوتی ہے۔ ان کے مطابق کمیٹی میں شامل افراد خود طویل عرصہ کرکٹ کھیل چکے ہیں، مگر اس کے باوجود یہ سمجھ نہیں پا رہے کہ مختلف فارمیٹس کے لیے کس قسم کی قیادت اور ٹیم کمبی نیشن درکار ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹیم میں مسلسل تبدیلیاں اور مبینہ طور پر ’’سرجری‘‘ کے نام پر تجربات قومی ٹیم کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں۔ ان کے بقول ایسے نوجوان کھلاڑیوں کو بھی ٹیم میں شامل کیا جا رہا ہے جنہوں نے ڈومیسٹک یا فرسٹ کلاس کرکٹ میں بہت کم میچز کھیلے ہیں۔

سابق آل راؤنڈر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا معیار اتنا بلند نہیں کہ وہاں سے آنے والے کھلاڑی فوری طور پر بین الاقوامی سطح پر اپنی جگہ مضبوط کر سکیں۔

شاہد آفریدی نے مزید کہا کہ بار بار نئے کھلاڑیوں کو کیپ دینا مسئلے کا حل نہیں بلکہ ٹیم کے استحکام کو متاثر کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ون ڈے فارمیٹ میں بہتر ریکارڈ رکھنے والے سینئر کھلاڑیوں کو بھی نظر انداز کیا گیا، حالانکہ انہیں ٹیم میں برقرار رکھا جانا چاہیے تھا۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے