United Nations کے اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان نے بھارت پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے دنیا کا سب سے بڑا اسلاموفوبک ملک قرار دیا۔ یہ اجلاس اسلاموفوبیا سے نمٹنے کے عالمی دن کے موقع پر منعقد ہوا۔
پاکستان کے مستقل مندوب Asim Iftikhar Ahmad نے جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ بھارت مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد، مساجد کی تباہی اور عوامی حملوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایسے "گھناؤنے اعمال” میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت میں اسلاموفوبیا صرف چند افراد تک محدود نہیں بلکہ ریاستی سرپرستی میں جاری ایک منظم رجحان بن چکا ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں اسلاموفوبک واقعات کی بڑی تعداد بھارت میں رپورٹ ہو رہی ہے، جبکہ سری نگر میں مسلسل ساتویں سال مسلمانوں کو جمعہ کی نماز کی ادائیگی سے روکا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے António Guterres نے تمام ممالک پر زور دیا کہ وہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتی نفرت کا خاتمہ کریں اور انسانی حقوق و مساوات کے اصولوں کو یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں مسلمان اقلیتیں تعصب، معاشی و سماجی محرومی، نگرانی اور امتیازی سلوک کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلاموفوبیا کے خلاف جدوجہد صرف مسلمانوں کے تحفظ تک محدود نہیں بلکہ یہ نسلی تعصب، نفرت اور عدم برداشت کے خلاف ایک عالمی انسانی جدوجہد ہے۔
اقوام متحدہ کے سربراہ نے ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ قانونی فریم ورک مضبوط کریں، نفرت انگیز بیانیوں کا خاتمہ کریں، آگاہی پیدا کریں اور مذہبی آزادی کو عالمی حق کے طور پر یقینی بنائیں۔
