واشنگٹن – امریکا نے اپنی امیگریشن پالیسی کو مزید سخت کرتے ہوئے 50 ممالک کے شہریوں پر امریکا میں داخلے کے لیے 15 ہزار ڈالر فیس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک عہدیدار کے مطابق اس اقدام کے تحت پہلے سے موجود 38 ممالک کی فہرست میں مزید 12 ممالک کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد متاثرہ ممالک کی مجموعی تعداد 50 ہو گئی ہے۔ نئے شامل کیے گئے ممالک میں زیادہ تر افریقی ریاستیں شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ فیس بی ون (کاروباری) اور بی ٹو (سیاحتی) ویزوں کے تحت امریکا آنے والے افراد پر لاگو ہوگی۔ اس پروگرام کو امریکی حکومت نے “ویزا توسیعی پروگرام” کا نام دیا ہے، جو 2 اپریل سے نافذ العمل ہوگا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکیوں کی امریکا آمد کو محدود کرنا اور امیگریشن نظام کو مزید کنٹرول میں لانا ہے۔ اس کے تحت درخواست دہندگان کو ایک قسم کے مالی بانڈز بھی جمع کروانے ہوں گے، جو ان کے قیام کی شرائط سے منسلک ہوں گے۔
فہرست میں شامل نئے ممالک میں کمبوڈیا، ایتھوپیا، گریناڈا، لیسوتھو، موریطانیہ، منگولیا، موزمبیق، نکاراگوا، گنی اور تیونس سمیت دیگر ریاستیں شامل ہیں۔ اس سے قبل بھی الجزائر، بنگلہ دیش، نائیجیریا، نیپال، یوگنڈا اور وینزویلا سمیت کئی ممالک اس فہرست کا حصہ بن چکے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Donald Trump انتظامیہ پہلے ہی امیگریشن قوانین کو سخت بنانے کے لیے متعدد اقدامات کر چکی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ نئی پالیسی سے ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کے لیے امریکا کا سفر مزید مشکل ہو جائے گا، جبکہ انسانی حقوق کے اداروں نے بھی اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکام اس اقدام کو قومی سلامتی اور غیر قانونی امیگریشن کے تدارک کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔
