مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران Islamic Revolutionary Guard Corps کی ایئرو اسپیس فورس کے کمانڈر Seyed Majid Mousavi نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے نئے لانچ سسٹمز امریکا اور اسرائیل کے لیے غیر متوقع چیلنج ثابت ہوں گے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری اپنے بیان میں موسوی کا کہنا تھا کہ ایران کی جدید میزائل ٹیکنالوجی نہ صرف خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ یہ دشمن ممالک کے دفاعی نظام کو بھی حیران کر دے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی میزائل قوت نے “مقبوضہ علاقوں” کی فضائی حدود میں برتری حاصل کر لی ہے، جو اس کی دفاعی حکمت عملی میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
دوسری جانب مختلف رپورٹس کے مطابق ایران نے Dimona میں واقع حساس تنصیبات کو میزائل حملوں کا نشانہ بنایا ہے، جہاں اسرائیل کی اہم جوہری اور توانائی تنصیبات موجود ہیں۔ اگرچہ ان حملوں کے نقصانات کی مکمل تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم اس اقدام نے خطے میں سکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مزید برآں، اطلاعات یہ بھی ہیں کہ ایران نے پہلی بار درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل استعمال کرتے ہوئے Cyprus تک حملہ کیا، جس کے بعد ماہرین میں ایران کی میزائل رینج اور ٹیکنالوجی پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ اس پیش رفت کو ایران کی عسکری صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ قرار دیا جا رہا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کی بڑھتی ہوئی میزائل صلاحیت نہ صرف Israel بلکہ United States اور اس کے اتحادیوں کے لیے بھی ایک اسٹریٹجک چیلنج بن سکتی ہے، جبکہ اس سے خطے میں اسلحہ کی دوڑ اور عدم استحکام کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
