آبنائے ہرمز پر 48 گھنٹوں کا الٹی میٹم: ٹرمپ کی ایران کو سخت وارننگ

جنگ کے بعد ایران کا نقشہ شاید بدل جائے: صدر ٹرمپ کا متنازع بیان

Donald Trump نے Iran کو نئی اور سخت وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر 48 گھنٹوں کے اندر Strait of Hormuz کو مکمل طور پر بحال نہ کیا گیا تو امریکہ سخت ردعمل دے گا۔

اپنے تازہ بیان میں امریکی صدر نے عندیہ دیا کہ امریکہ مرحلہ وار ایران کے اہم پاور پلانٹس کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس کا آغاز بڑے بجلی گھروں سے کیا جائے گا۔ ٹرمپ کے اس بیان کو خطے میں ممکنہ بڑے فوجی تصادم کی تیاری کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

دوسری جانب ایران نے بھی واضح اور سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس نوعیت کی کوئی کارروائی کی گئی تو مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر توانائی بحران شدت اختیار کر سکتا ہے۔

ٹرمپ نے میڈیا پر بھی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے اہداف حاصل کر چکا ہے، جبکہ بعض رپورٹس اس کے برعکس تاثر پیش کر رہی ہیں۔ ان کے مطابق زمینی حقائق کو مسخ کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل ٹرمپ نے یہ عندیہ بھی دیا تھا کہ امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے پر غور کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز استعمال کرنے والے دیگر ممالک کو اپنی سکیورٹی خود یقینی بنانی چاہیے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ متضاد بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ واشنگٹن کی پالیسی ابھی مکمل طور پر واضح نہیں، جبکہ ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی وقت بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم ترین راستہ ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے