دوست ممالک کے ثالثی پیغامات کو مذاکرات قرارنہیں دیا جا سکتا، عباس عراقچی

Iranian Foreign Minister Abbas Araqchi met with his Egyptian counterpart

ایران کے وزیر خارجہ Abbas Araghchi نے واضح کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کوئی براہِ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔ غیرملکی میڈیا سے گفتگو میں عباس عراقچی نے کہا کہ امریکا مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات بھیج رہا ہے، تاہم ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ امریکا سے حقیقی مذاکرات کے مترادف نہیں ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے اعلیٰ حکام امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ جنگ کا مستقل خاتمہ ہو اور اس دوران ہونے والے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

عباس عراقچی نے امریکا کی خطے میں کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حالانکہ امریکا کے پاس کئی اڈے موجود ہیں، وہ خطے کے ممالک کے تحفظ میں ناکام رہا ہے اور اپنے جنگی مقاصد میں بھی ناکام ہو چکا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا نے ایران کی حکومت میں تبدیلی اور جلد کامیابی حاصل کرنے میں بھی ناکامی پائی ہے، اور پڑوسی ممالک کے لیے یہ پیغام ہے کہ امریکا سے فاصلے کو برقرار رکھیں۔

ماہرین کے مطابق عباس عراقچی کے بیانات ایران کے سخت موقف اور امریکا پر دباؤ کی حکمت عملی کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے صورتحال پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔

About The Author

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے