ایران پر جاری جنگ کے خلاف عالمی سطح پر احتجاجی لہر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکہ سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں “No Kings” کے عنوان سے بڑے پیمانے پر مظاہرے کیے گئے اور لاکھوں افراد نے سڑکوں پر نکل کر جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔
رپورٹس کے مطابق United States کے علاوہ Greece، Italy، France، Spain، Germany، Netherlands اور Australia میں مظاہرین نے سڑکوں پر نکل کر جنگ کے خلاف نعرے لگائے اور Donald Trump کی انتظامیہ پر شدید تنقید کی۔ مظاہرین کا مؤقف تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی عالمی امن کے لیے خطرہ بن چکی ہے اور فوری جنگ بندی ناگزیر ہے۔
دوسری جانب Israel میں بھی جنگ مخالف آوازیں بلند ہونا شروع ہو گئی ہیں۔ Tel Aviv میں تقریباً 1500 افراد نے احتجاجی ریلی نکالی، جس میں شہریوں نے جنگ کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق اس موقع پر سیکیورٹی اہلکاروں اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جبکہ پولیس نے جنگ مخالف بینرز ہٹا دیے اور کم از کم 18 افراد کو گرفتار کر لیا۔
یہ مظاہرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب Iran اور Hezbollah کی جانب سے Israel پر حملوں کے بعد خطے میں شدید جانی و مالی نقصانات کی اطلاعات ہیں، جس کے باعث عالمی سطح پر جنگ کے خلاف عوامی ردعمل مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق “No Kings” مظاہرے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ عالمی عوامی رائے تیزی سے جنگ کے خلاف جا رہی ہے، اور اگر یہی دباؤ برقرار رہا تو یہ حکومتوں کی پالیسیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے، خاص طور پر مغربی ممالک میں جہاں عوامی احتجاج سیاسی فیصلوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
