سینٹر آف پیس کے بانی اور صدر مہمت سوکاؤ ووزیل نے طالبان کی قانونی حیثیت پر ایک منفرد اور اہم مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ روایتی بین الاقوامی قوانین طالبان کے معاملے میں لاگو نہیں ہوتے، کیونکہ انہیں ایک داخلی فریق نہیں بلکہ کابل پر قابض ایک طاقت کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے اپنی دلیل کی بنیاد دوحہ معاہدہ پر رکھتے ہوئے کہا کہ طالبان نے اس معاہدے کے تحت امن مذاکرات کو تسلیم کیا اور یہ وعدہ بھی کیا کہ وہ طاقت کے ذریعے کابل پر قبضہ نہیں کریں گے۔ تاہم بعد میں انہوں نے اس وعدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے زورِ طاقت سے اقتدار حاصل کیا، جس سے ان کی قانونی حیثیت مشکوک ہو گئی۔
مہمت سوکاؤ ووزیل کے مطابق طالبان کی جانب سے اس معاہدے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کا حصہ بنانے کی رضامندی دراصل انہیں ایک “قبضہ کرنے والی طاقت” کے زمرے میں لے آتی ہے۔ بین الاقوامی قانون کے تحت ایسی قوت، جو معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کسی علاقے پر قبضہ کرے، قانونی جواز سے محروم سمجھی جاتی ہے۔
https://x.com/VisionPointPK/status/2038614085760172455?s=20
انہوں نے مزید کہا کہ طالبان کی حکومت کے تحت کیے گئے معاہدے، سوائے انسانی ہمدردی کے معاملات کے، عالمی سطح پر قانونی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ ایک غیر قانونی حکومت کے معاہدوں کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی یہ تحقیق، جو کنسٹیلیشن اسٹڈیز کے تحت جنیوا میں سامنے آئی، افغانستان کے مسئلے کو ایک نئے قانونی تناظر میں پیش کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ مؤقف اس بات کو واضح کرتا ہے کہ افغانستان کا بحران صرف سیاسی یا عسکری نوعیت کا نہیں بلکہ ایک پیچیدہ بین الاقوامی قانونی مسئلہ بھی بن چکا ہے، جس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔
