Myanmar میں اہم سیاسی پیش رفت کے تحت فوجی حکومت کے سربراہ Min Aung Hlaing نے مسلح افواج کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، جسے مبصرین ملک کی اعلیٰ ترین سیاسی منصب یعنی صدارت حاصل کرنے کی حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میانمار میں دسمبر اور جنوری میں ہونے والے متنازع انتخابات کے بعد ایک فوجی حمایت یافتہ جماعت کامیاب قرار دی گئی، تاہم بین الاقوامی سطح پر United Nations اور متعدد مغربی ممالک نے ان انتخابات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
من آنگ ہلینگ نے 2021 میں ایک منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار سنبھالا تھا، جس کے بعد ملک بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے شروع ہوئے جو بعد ازاں مسلح بغاوت اور خانہ جنگی میں تبدیل ہو گئے۔ اس تنازع کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، جبکہ ملک کی معیشت بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔
رپورٹس کے مطابق نئی سیاسی ترتیب کے تحت پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں نائب صدر کے امیدواروں کا انتخاب کیا جائے گا، جس کے بعد ووٹنگ کے ذریعے صدر کا انتخاب عمل میں آئے گا۔ من آنگ ہلینگ کو بھی نائب صدر کے امیدوار کے طور پر نامزد کیا گیا ہے، جس سے ان کے صدارتی منصب تک پہنچنے کی راہ مزید واضح ہو گئی ہے۔
دوسری جانب، من آنگ ہلینگ نے فوجی کمانڈ اپنے قریبی اور قابل اعتماد ساتھی Ye Win Oo کے حوالے کر دی ہے، جنہیں حال ہی میں کمانڈر انچیف مقرر کیا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تقرری فوجی قیادت میں تسلسل برقرار رکھنے اور اندرونی استحکام کو یقینی بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ من آنگ ہلینگ کا یہ قدم دراصل بغاوت کے بعد اقتدار کو مزید مستحکم کرنے اور فوجی قیادت کو ایک نئے سیاسی ڈھانچے میں منتقل کرنے کی کوشش ہے، جس کے ذریعے وہ باضابطہ طور پر صدر کے منصب تک رسائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
