کمال خرازی، جو ایران کے سینئر سفارتکار اور سابق وزیر خارجہ ہیں، تہران میں اپنے گھر پر ہونے والے حملے میں شدید زخمی ہو گئے جبکہ ان کی اہلیہ شہید ہو گئی ہیں۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق زخمی حالت میں کمال خرازی کو فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب خطے میں کشیدگی پہلے ہی عروج پر ہے۔
کمال خرازی ایران کی اعلیٰ قیادت کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں اور وہ آیت اللّٰہ سید علی خامنہ ای کے مشیر بھی رہ چکے ہیں، جبکہ موجودہ قیادت کے ساتھ بھی بطور مشیر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ وہ اس وقت ایران کی اسٹریٹیجک کونسل برائے خارجہ امور کے سربراہ ہیں، جو ملک کی خارجہ پالیسی سازی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
81 سالہ خرازی 1997 سے 2005 تک محمد خاتمی کے دورِ صدارت میں وزیر خارجہ رہ چکے ہیں اور انہیں ایران کی خارجہ حکمت عملی تشکیل دینے والی اہم شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔
امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کمال خرازی پاکستان سمیت خطے کے اہم ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں کی نگرانی کر رہے تھے، اور ان پر حملے کو ممکنہ طور پر جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک کڑی قرار دیا جا رہا ہے۔
چند ہفتے قبل ایک امریکی ٹی وی انٹرویو میں کمال خرازی نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں سفارت کاری کے امکانات محدود ہو چکے ہیں اور ڈونلڈ ٹرمپ پر وعدے پورے نہ کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ماضی میں دو مرتبہ مذاکرات کے دوران حملوں کا سامنا کر چکا ہے، جس کے باعث اعتماد کا فقدان پیدا ہوا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا تھا کہ سفارتی عمل اسی وقت مؤثر ہو سکتا ہے جب عالمی سطح پر اقتصادی دباؤ اس حد تک بڑھایا جائے کہ دیگر ممالک امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی پر مجبور کریں۔
کمال خرازی نے اپنے انٹرویو میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ ایران طویل المدتی جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
