امریکا نے نیویارک میں اقوام متحدہ کے ایرانی مشن سے وابستہ نائب سفیر سعادت آغا جانی کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ یہ اقدام گزشتہ سال دسمبر میں قومی سلامتی سے متعلق خدشات کے پیش نظر کیا گیا تھا، تاہم اس فیصلے کو اس وقت عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکی محکمۂ خارجہ نے ایک نوٹ کے ذریعے ایرانی مشن کو ہدایت دی تھی کہ نائب سفیر فوری طور پر امریکا چھوڑ دیں۔
ذرائع کے مطابق یہ کارروائی “دفعہ 13 طریقہ کار” کے تحت کی گئی، جس کے ذریعے کسی سفارت کار کو باضابطہ طور پر ناپسندیدہ شخصیت (persona non grata) قرار دیے بغیر خاموشی سے ملک چھوڑنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔ اس طریقہ کار کا استعمال عام طور پر حساس سفارتی معاملات میں کیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ امریکی حکام نے نائب سفیر سعادت آغا جانی پر کوئی مخصوص الزام عائد نہیں کیا، تاہم قومی سلامتی سے متعلق عمومی خدشات کو اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا گیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق فروری میں ان کے بچوں کو بھی امریکا چھوڑنے کی ہدایت دی گئی تھی۔
امریکی محکمۂ خارجہ نے نیویارک میں ایرانی مشن کو بھیجے گئے نوٹ کی تصدیق کی ہے، تاہم ایران کی جانب سے اس پیش رفت پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی کشیدگی مختلف معاملات پر برقرار ہے، اور دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی محدود سطح پر قائم ہیں۔
