امریکا کی تقریباً دو درجن ڈیموکریٹ قیادت والی ریاستوں نے صدر Donald Trump کی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے، جس میں میل اِن ووٹنگ پر نئی پابندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔
مقدمے میں صدارتی حکم نامے کو روکنے کی درخواست کی گئی ہے، جس کے تحت ووٹنگ کے طریقۂ کار میں اہم تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ ریاستوں اور ووٹنگ حقوق کی تنظیموں کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات آئندہ US Midterm Elections سے قبل ووٹنگ کے عمل کو پیچیدہ اور محدود بنا سکتے ہیں۔
نیویارک کی اٹارنی جنرل Letitia James سمیت 23 ریاستوں اور District of Columbia کے حکام نے مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کو یکطرفہ طور پر انتخابی قوانین میں تبدیلی کا اختیار حاصل نہیں، کیونکہ آئین کے مطابق یہ اختیار ریاستوں اور کانگریس کے پاس ہوتا ہے۔
صدارتی حکم نامے کے مطابق Department of Homeland Security کو اہل ووٹرز کی فہرست تیار کرنے کا کہا گیا ہے، جبکہ United States Postal Service کو ہدایت دی گئی ہے کہ صرف مخصوص فہرست میں شامل افراد کو ہی بیلٹ بھیجے جائیں۔
ووٹنگ حقوق کی تنظیموں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وفاقی سطح پر تیار کی جانے والی فہرست نامکمل ہو سکتی ہے، جس سے نہ صرف شہریوں کے ووٹ کا حق متاثر ہوگا بلکہ پوسٹل سروس پر بھی اضافی دباؤ پڑے گا۔
واضح رہے کہ COVID-19 کے بعد امریکا میں میل اِن ووٹنگ کا رجحان تیزی سے بڑھا، اور 2024 کے انتخابات میں تقریباً ایک تہائی ووٹ ڈاک کے ذریعے ڈالے گئے تھے۔
ریاستوں کا کہنا ہے کہ انتخابات سے چند ماہ قبل اس نوعیت کی تبدیلیاں نہ صرف آئینی تنازع پیدا کریں گی بلکہ انتخابی نظام میں انتشار کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات انتخابی دھاندلی کو روکنے کے لیے ضروری ہیں۔
